’’قرآن کا نظریہ عروج و زوال ، عصر حاضر کے تناظر میں‘‘ پر ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد کا لکچر
حیدرآباد 17 ڈسمبر (راست) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی کبریائی کا اعلان کیا ہے اور جنت و دوزخ کا تذکرہ کیا ہے وہیں قرآن کریم میں قوموں کے عروج و زوال کے اسباب و محرکات کو تفصیلی انداز میں بیان کیا ہے۔ خاص طور پر قوم بنی اسرائیل کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے قرآن گواہی دیتا ہے کہ اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے ایک عرصہ دراز تک سیادت و قیادت اور حکومت و اقتدار کے اعلیٰ منصب پر فائز کیا لیکن جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات سے روگردانی کی اور انبیاء کرام کی تعلیمات کو جھٹلانا شروع کردیا تو انہیں مشیتِ یزدی کے تحت ذلت و نکبت اور زوال و انحطاط سے دوچار ہونا پڑا۔ عصر حاضر کے تناظر میں اُمت مسلمہ اپنا جائزہ لے تو پتہ چل جائے گا کہ مسلمانوں کے زوال کے اسباب و علل کیا ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد سابق اسوسی ایٹ پروفیسر سیاسیات نے کانفرنس ہال، جامع مسجد عالیہ، گن فاؤنڈری میں ’’قرآن کا نظریہ عروج و زوال ۔ عصر حاضر کے تناظر میں‘‘ کے عنوان پر لکچر دیتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہاکہ قانون قدرت کے تحت کوئی قوم ذلت و پستی سے نکل کر عروج و بلندی کی اعلیٰ مدارج کو طے کرتی ہے، پھر وہ اپنے جاہ و جلال کا جھنڈا لہراکر منظر عام سے غائب ہوجاتی ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں کسی قوم کو دوامی کامیابی نہیں ملی۔ قوموں کے عروج و زوال کے پس پشت کچھ اسباب ہوتے ہیں جس کا تذکرہ قرآن مجید میں کیا گیا۔ قوموں کے ارتقاء و انحطاط کا راز تعلیم و تربیت میں مضمر ہے۔ اسی لئے قرآن مجید اس ضمن میں بار بار تاکید کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ علم سے متعلق تھی۔ لیکن آج مسلمان علمی میدان میں کوئی کارہائے نمایاں انجام دیتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ اسی طرح قوموں کے اخلاق و کردار ان کی ترقی کا زینہ ہوتے ہیں۔ اخلاقی پستی اور گھٹیا کردار قوموں کو قیادت کے منصب سے دور کردیتا ہے۔ قرآن نے وعدہ کیاکہ زمین کے وارث اس کے نیک بندے ہوں گے۔ صلاحیت اور صالحیت کے ذریعہ ہی عصر حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم تفکر و تدبر کی تلقین کرتا ہے۔ اُمت مسلمہ قرآن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے مقام و منصب کو جان کر اس پر عمل کرے۔ حافظ تنویر عالم نے قرأت پیش کی۔ جناب انعام احمد نے دعا کی۔