قومی انسانی حقوق کمیشن کے دِشا کے ارکان خاندان سے بات چیت

   

حیدرآباد۔ 8 ڈسمبر (این ایس ایس) قومی انسانی حقوق کمیشن کی ٹیم نے چار ملزمین کی طرف سے مبینہ اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کی بربریت انگیز واردات کی متاثرہ وٹرنری ڈاکٹر کے ارکان خاندان سے بات چیت کی اور اس المناک واقعہ پر ان کا ردعمل نوٹ کیا۔ دِشا کی موت کے رسم دسواں اور اپنی صحت کی بنیاد پر والدین نے اس ٹیم سے بات چیت کرنے سے انکار کیا تو لیکن سمجھانے منانے کے بعد انہوں نے تعاون کیا۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کی ٹیم کی اپیل پر دِشا کے ارکان خاندان پولیس اکیڈیمی پہونچے تھے، جہاں انہوں نے 27 نومبر کو پیش آئے وحشیانہ واقعہ کے بارے میں اپنا بیان دیا۔ باور کیا جاتا ہے کہ انہوں نے شکایت کی کہ پولیس نے محض دائرۂ حدود کا بہانہ بناتے شکایت درج کرنے سے انکار کیا تھا۔ اگر پولیس بروقت شکایت درج کرتی تو غالباً لاپتہ وٹرنری ڈاکٹر کی تلاش کیلئے اسی وقت حرکت میں آئی ہوتی اور یہ وحشیانہ جرم شاید رونما نہ ہوتا لیکن ایسا نہ ہونے کے سبب دشا کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے بعد نعش کو جلا دیا گیا۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کے ارکان نے ہفتہ کو محبوب نگر میں ان چار ملزمین کی نعشوں کا معائنہ کیا جو جمعہ کی اولین ساعتوں میں پولیس انکاؤنٹر کے نتیجہ میں ہلاک کردیئے گئے تھے۔ ریاستی ہائیکورٹ نے حکومت سے کہا تھا کہ ان مہلوکین کی نعشوں کو 9 ڈسمبر تک محفوظ رکھا جائے تاکہ مقدمہ کی سماعت میں اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جاسکے چنانچہ چار نعشوں کو عہدیداروں کی تحویل میں محفوظ رکھا گیا تھا۔ کمیشن نے زخمی سب انسپکٹر وینکٹیشورلو اور کانسٹبل اروند گوڑ کا بیان بھی قلمبند کیا جو جرم کے ارتکاب کے تمثیلی اعادہ کے دوران مبینہ طور پر ملزمین کے حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔