ماضی میں مودی حکومت کے ہر متنازعہ فیصلہ پر چیف منسٹر تلنگانہ کا تعاون ، نئی پارٹی سے کانگریس کو شدید نقصان ممکن
حیدرآباد۔5۔اکٹوبر(سیاست نیوز) قومی سطح پر غیر بی جے پی اور غیر کانگریس اتحاد کی تشکیل میں کے چندر شیکھر راؤ کی ناکامی نے انہیں قومی سیاسی پارٹی کے قیام کی سمت مائل کیا ہے !کے چندر شیکھر راؤ جو کہ باضابطہ کبھی این ڈی اے کا حصہ نہیں رہے لیکن نریندر مودی حکومت کے بیشتر ہر متنازعہ فیصلہ کا انہوں نے ساتھ دیا تھااور گذشتہ چند برسوں سے تلنگانہ راشٹر سمیتی بی جے پی کی شدت سے مخالفت کر رہی ہے اور اس مخالفت کے دوران کے چندر شیکھر راؤ نے ملک کی سرکردہ مخالف بی جے پی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں بی جے پی اور کانگریس کو دور رکھتے ہوئے نئے اتحاد کی تشکیل کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن مخالف بی جے پی سیاسی جماعتو ںکے قائدین کانگریس کے بغیر کسی اتحاد کی تشکیل کے حق میں نہیں ہیں اور کے سی آر کی کئی ملاقاتوں کے باوجود نئے محاذ کی تشکیل میں انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑاجس کے نتیجہ میں وہ خود اپنی قومی سیاسی جماعت ذریعہ قومی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے اتحاد کی کوششوں میں ناکامی کے بعد اب کے سی آر کی نئی قومی سیاسی جماعت کی کوششیں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار حاصل کرنے سے روکنے میں کس قدر کامیاب ہوں گی یہ تو نہیں کہا جاسکتا لیکن غیر کانگریسی اور غیربی جے پی اتحاد کی تشکیل میں ناکامی کے بعد یہ کہاجانے لگا ہے کہ ٹی آر ایس سربراہ بی جے پی سے زیادہ کانگریس کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں اسی لئے کانگریس کے ساتھ یوپی اے کا حصہ بننے کے بجائے علحدہ قومی سیاسی جماعت کے قیام کے لئے آمادہ ہیں لیکن ان سیکولر قوتوں کے ساتھ اتحاد کے لئے آمادہ نہیں ہیں جو کہ ملک بھر میں اپنی طاقت کے ذریعہ بی جے پی کو اقتدار حاصل کرنے سے روکنے یا اپوزیشن کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔م