پرگتی بھون میں ملاقات، ملک کیلئے تلنگانہ ماڈل کی ضرورت، فرقہ پرست طاقتوں سے نجات دلانے کا عہد
حیدرآباد۔/11 ستمبر، ( سیاست نیوز) قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد اور بی جے پی کے متبادل محاذ کی تیاری کی سرگرمیوں کے دوران کرناٹک کے سابق چیف منسٹر اور جنتا دل سیکولر قائد ایچ ڈی کمار سوامی نے آج حیدرآباد پہنچ کر چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی۔ پرگتی بھون میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے علاوہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل پر بھی دونوں قائدین نے تفصیلی بات چیت کی ۔ کے سی آر نے کمار سوامی کے اعزاز میں لنچ کا اہتمام کیا تھا۔ ملاقات کے بعد اگرچہ کمار سوامی نے باقاعدہ طور پر میڈیا سے بات چیت نہیں کی تاہم چیف منسٹر کے دفتر کے بموجب انہوں نے قومی سطح پر کے سی آر کی قیادت کی مکمل تائید کی اور کہا کہ کے سی آر کے دیرینہ تجربہ کی ملک کو ضرورت ہے۔ کمار سوامی نے کہا کہ کے سی آر نے تمام طبقات کو متحد کرتے ہوئے پُرامن جدوجہد کے ذریعہ تلنگانہ ریاست حاصل کی اور موجودہ صورتحال میں ملک کو ان کی قیادت اور تجربہ کی ضرورت ہے۔ کے سی آر تلنگانہ ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے تلنگانہ عوام کے 60 سالہ طویل خوابوں کی تکمیل کے اقدامات کررہے ہیں۔ قومی سطح پر متبادل محاذ کی تیاری میں کے سی آر کے رول کی کمار سوامی نے مکمل تائید کا اعلان کیا۔ انہوں نے کے سی آر کی جانب سے عنقریب قومی سیاسی پارٹی کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ قومی سیاست میں کے سی آر اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ کمار سوامی کی رائے تھی کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں متبادل کیلئے خلاء موجود ہے اور کے سی آر اسے پُر کرسکتے ہیں۔ پرگتی بھون پہنچنے پر کے سی آر نے کمار سوامی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ریاستی وزیر پرشانت ریڈی، ارکان کونسل مدھو سدن چاری، پی راجیشورریڈی، ارکان اسمبلی اے جیون ریڈی، بی سمن اور ایس راجندر ریڈی موجود تھے۔ دونوں قائدین کے درمیان ثمرآور مذاکرات رہے اور کمار سوامی نے کہا کہ ملک کو تلنگانہ ماڈل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران تلنگانہ کی ترقی موضوع بحث ہے جس کے لئے کے سی آر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ قومی سطح پر اسی طرح کی ترقی ہو۔ انہوں نے زرعی شعبہ کیلئے 24 گھنٹے مفت برقی سربراہی، مفت پینے کے پانی کی فراہمی، زراعت اور آبپاشی کے شعبہ جات کی ترقی کے علاوہ کسانوں کی بھلائی کے اقدامات کی ستائش کی اور کہا کہ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جو اسکیمات پر عمل کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک اور دیگر پڑوسی ریاستوں کے عوام تلنگانہ کی طرح حکمرانی اور فلاحی اسکیمات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کمار سوامی نے بی جے پی مکت بھارت نظریہ کی تائید کی اور کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے عوام کو بی جے پی سے نجات دلانے کا جو منصوبہ بنایا ہے وہ اس کی تائید کرتے ہیں۔ کے سی آر نے ملک میں نفرت اور سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کی سرگرمیوں میں اضافہ سے واقف کرایا۔ دونوں قائدین نے مرکز کی بی جے پی حکومت کی ملک کیلئے نقصاندہ سیاسی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ دونوں قائدین نے کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ منافرت کے ماحول کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کی جمہوری اور وفاقی روایات کے تحفظ کیلئے قومی سطح پر تمام متبادل سیاسی طاقتوں کو متحد ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام قومی سطح پر بی جے پی کے متبادل کا انتظار کررہے ہیں۔ کے سی آر کو قومی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ‘بی جے پی کے متبادل کے طور پر ابھرنے میں ناکام ہوچکی ہے لہذا کے سی آر کی جانب سے قومی سیاسی پارٹی کے قیام کا وہ خیرمقدم کرتے ہیں۔ عوام اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ کانگریس‘ بی جے پی کیلئے مضبوط متبادل نہیں ہے اور کانگریس قیادت پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ دونوں قائدین نے علاقائی جماعتوں کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ کے سی آر نے بتایا کہ قومی سیاست میں حصہ لینے ان پر عوام کا کافی دباؤ ہے۔ اضلاع کے دورہ کے موقع پر عوام نے قومی سیاست کے حق میں نعرے لگائے۔ کے سی آر نے کہاکہ عوام بی جے پی کے خلاف ہیں جو تلنگانہ کیلئے مسلسل مسائل پیدا کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیہاتوں کی سطح کے ٹی آر ایس قائدین اور ضلع اور ریاستی سطح کے قائدین قومی پارٹی کے حق میں قراردادیں منظور کررہے ہیں۔ر