کام حیدرآبادی ثریا طیب جی کا ، اعزاز دیا گیا پنگلی وینکیا کو
کم از کم اندھرا مہیلا سبھا ایجوکیشن کو ثریا طیب جی کے نام سے موسوم کرنے اور گولڈ میڈل متعارف کرانے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ کونسل آف ہسٹاریکل ریسرچ کے رہنما و جہد کار کیپٹن پانڈو رنگاریڈی نے ہندوستان کا قوم پرچم ( ترنگا ) ڈیزائن کرنے والی ثریا طیب جی کو نظر انداز کرنے کا مرکزی و تلنگانہ حکومتوں پر الزام عائد کیا ۔ حیدرآباد میں واقع آندھرا مہیلا سبھا کالج آف ٹیچرس ایجوکیشن کو ثریا طیب جی کے نام سے موسوم کرنے اور ان کے نام سے گولڈ میڈل متعارف کرانے عثمانیہ یونیورسٹی و ٹی آر ایس حکومت سے مطالبہ کیا ۔ کیپٹن پانڈو رنگاریڈی نے کہا کہ حیدرآبادی ثریا طیب جی 1919 میں پیدا ہوئی 1937 تا 1942 تک ساتویں نظام کے وزیراعظم سر اکبر حیدری کی بھانجی تھی وہ اور ان کے شوہر بدر الدین طیب جی ایک ہندوستانی سیول سرونٹ اور دستور ساز اسمبلی کی کمیٹیوں کے رکن تھے ۔ انہوں نے قومی پرچم ترنگا کا ڈیزائن تیار کیا جس کو 22 جولائی 1947 کو دستور ساز اسمبلی نے منظور کیا تھا تاہم ہندوستانی قومی پرچم کو تیار کرنے کا اعزاز پنگلی وینکیا کو جاتا ہے ۔ جب کہ اس اعزاز کی حقدار ثریا طیب جی ہے ۔ کیپٹن پانڈو رنگاریڈی نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کو توجہ دلا چکے ہیں تاہم دونوں ہی حکومتوں نے ثریا طیب جی کی خدمات کو نظر انداز کردیا ہے ۔ وہ آر ٹی اے کے تحت مرکزی وزارت داخلہ سے بھی تفصیلات طلب کرچکے ہیں ۔ مگر کوئی ریکارڈ نہ ہونے کا انہیں جواب ملا ہے ۔ کم از کم پوسٹل ڈپارٹمنٹ نے بھی ان کی خدمات کی نشاندہی کرتے ہوئے یادگار ڈاک ٹکٹ جاری نہیں کیا ۔ کیپٹن پانڈو رنگاریڈی نے ثریا طیب جی کو خراج پیش کرنے کے لیے حیدرآباد میں واقع آندھرا مہیلا سبھا کالج آف ایجوکیشن کو ثریا طیب جی کے نام سے موسوم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ساتھ ہی عثمانیہ یونیورسٹی میں ثریا طیب جی کے نام سے گولڈ میڈل متعارف کرانے پر زور دیا ۔ کیپٹن پانڈو رنگاریڈی نے اپنی جانب سے عثمانیہ یونیورسٹی کو گولڈ میڈل دینے کا بھی پیشکش کیا ۔۔ ن