نئی دہلی، 10 اکتوبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز زیرِ سماعت قیدیوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے مطالبے سے متعلق مفاد عامہ کی ایک عرضی پر مرکزی حکومت اور انتخابی کمیشن کو نوٹس جاری کیاہے ۔ چیف جسٹس بی۔ آر۔ گوائی اور جسٹس کے ۔ ونود چندرن کی بنچ نے سنیتا شرما کی جانب سے دائر عرضی پر مرکز اور انتخابی کمیشن سے جواب طلب کیا ہے ۔ آئین کی دفعہ 32 کے تحت دائر اس عرضی میں دلیل دی گئی ہے کہ ووٹ کے حق پر مکمل پابندی نہیں لگائی جانی چاہیے ۔ عرضی میں وضاحت کی گئی ہے کہ مجوزہ رعایت صرف ان قیدیوں کے لیے ہونی چاہیے جو عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی شق۔7 کے تحت مجرم قرار نہیں دیے گئے یا زیرِ حراست نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کمیشن کو ہدایت دے کہ جیلوں کے اندر ووٹنگ مراکز قائم کیے جائیں تاکہ مقامی قیدی اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر سکیں۔ اس کے علاوہ ان قیدیوں کے لیے جو اپنے آبائی انتخابی حلقوں یا ریاستوں سے باہر قید ہیں، ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی مناسب احکامات یا رہنما اصول جاری کیے جائیں۔