ہر ضلع میں غریبوں کو مفت کھانے کی سربراہی کی ہدایت، غریبوں اور ضعیفوں کیلئے ٹیکہ اندازی کی خصوی مہم ،حاملہ خاتون کی موت پر برہمی
خانگی دواخانوںکی لوٹ کھسوٹ روکنے کمیٹی کے قیام کی ہدایت ، تینوں پولیس کمشنرس کی ستائش
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست میں لاک ڈاؤن اور کورونا قواعد پر عمل آوری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تلنگانہ پولیس کی خدمات کی ستائش کی ہے۔ عدالت نے ٹیکہ اندازی مہم پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور اس سلسلہ میں حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ ہائی کورٹ نے غیر سرکاری اداروں کے تعاون سے ٹیکہ اندازی مہم چلانے کی ہدایت دی ۔ ہائی کورٹ نے حیدرآباد اور ہر ضلع میں کمیونٹی کچن قائم کرتے ہوئے غریبوں کو مفت کھانے کی سربراہی کی ہدایت دی ۔ ہائی کورٹ نے بروقت علاج نہ ملنے پر حاملہ خاتون کی موت پر برہمی کا اظہار کیا اور اس سلسلہ میں حکومت سے رپورٹ طلب کی ۔ پولیس کی جانب سے لاک ڈاؤن اور کووڈ قواعد کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں کی گئی کارروائی پر مشتمل رپورٹ ہائی کورٹ میں پیش کی گئی۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے ریاست میں لاک ڈاؤن کے نفاذ اور کورونا قواعد پر عمل آوری کے سلسلہ میں خصوصی سماعت کی ۔ حیدرآباد ، سائبر آباد اور رچہ کنڈہ کے کمشنرس سماعت کے موقع پر حاضر رہے۔ عدالت نے کہا کہ مستقبل میں بھی پولیس کو لاک ڈاؤن اور کووڈ قواعد پر عمل آوری کے لئے اسی طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہئے ۔ چیف جسٹس کورونا کی سنگین صورتحال میں لاک ڈاؤن پر عمل آوری کے سلسلہ میں تینوں پولیس کمشنرس کے رول کی ستائش کی۔ پولیس کی جانب سے لاک ڈاؤن اور نرمی کے دوران کی صورتحال کے بارے میں ویڈیو گراف عدالت میں پیش کیا گیا ۔ حیدرآباد ، سائبر آباد اور رچہ کنڈہ کی جانب سے پیش کردہ ویڈیو گراف پر عدالت نے اطمینان کا اظہار کیا۔ صبح 6 تا 10 بجے نرمی کے دوران قواعد پر عمل آوری کے لئے تینوں کمشنرس کی ستائش کی گئی۔ ہائی کورٹ نے ٹیکہ اندازی کی مہم کے بارے میں حکومت سے سوال کیا ؟ عدالت نے کہا کہ دیگر ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں ٹیکہ اندازی کی مہم پر عمل کیوں نہیں کیا جارہا ہے ؟ درخواست گزار کی جانب سے بتایا گیا کہ ٹیکہ اندازی کے معاملہ میں تلنگانہ ملک میں 15 ویں مقام پر ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ دواخانوں میں بستروں کی تعداد کے بارے میں حکومت کے ویب سائیٹ پر جو تعداد دکھائی گئی ہے ، وہ حقیقت میں مختلف ہے۔ ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ کورونا کی پہلی لہر کے دوران خانگی دواخانوں میں زائد فیس کی وصولی پر کنٹرول کے لئے تین آئی اے ایس عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی لیکن اس کمیٹی نے کوئی کارروائی نہیں کی ۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ خانگی دواخانوں میں علاج ، سی ٹی اسکیان اور دیگر ٹسٹوں کے لئے چارجس کا تعین کریں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اس سلسلہ میں سابق میں جاری کردہ احکامات کافی نہیں ہیں، حکومت کو نئی شرحوں کا تعین کرتے ہوئے احکامات جاری کرنے چاہئے ۔ ہائی کورٹ نے خانگی دواخانوں کی لوٹ کھسوٹ کو روکنے کیلئے تین رکنی کمیٹی کے قیام کی ہدایت دی ۔ جیلوں میں کورونا کی صورتحال کے بارے میں عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مرکز کی جانب سے 650 میٹرک ٹن آکسیجن اور 10,000 ریمیڈیسیور انجکشن سربراہ کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ سماعت کے دوران عدالت نے خانگی دواخانوں کی لاپرواہی کے سبب ملا پور علاقہ میں ایک حاملہ خاتون کی موت پر برہمی کا اظہار کیا اور حکومت کو اس معاملہ کی جانچ کرنے کی ہدایت دی ۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے پریشان حال غریبوں کو کھانا فراہم کرنے کیلئے حیدرآباد کے بشمول ہر ضلع میں کمیونٹی کچن قائم کئے جائیں جہاں سے مفت کھانا سربراہ کیا جائے ۔ جی ایچ ایم سی اس سلسلہ میں مختلف این جی اوز سے معاہدہ کرتے ہوئے کمیونٹی کچن قائم کرے۔ ہر ضلع میں ویب سائیٹ پر کمیونٹی کچن کی تفصیلات پیش کی جائیں۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت کو بتایا کہ بلیک فنگس بیماری کے علاج کے لئے ای این ٹی ہاسپٹل کوٹھی میں انتظامات کئے گئے ہیں۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو مشورہ دیا کہ کمیونٹی سنٹرس کو ٹسٹنگ اور آئسولیشن سنٹرس میں تبدیل کرنے پر غور کیا جائے گا ۔ ہائی کورٹ میں آئندہ سماعت یکم جون کو مقرر کی گئی ہے ۔