لاک ڈاؤن کے دوران حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی آمدنی میں کمی

   

Ferty9 Clinic

تعمیری اجازت ناموں سے 170 کروڑ کی آمدنی کا فرق، 2021 میں اضافہ کی امید
حیدرآباد: کورونا وباء اور لاک ڈاون کے دوران گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو عمارتوںکی اجازت کے سلسلہ میں آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جنوری تا ڈسمبر 10541 بلڈنگ پرمیشن کے ذریعہ مجلس بلدیہ کو 685.81 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلہ 170 کروڑ روپئے کم ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ سیلاب اور انتخابات کے نتیجہ میں ریونیو کلکشن متاثر ہوا ہے۔ انتخابات کی سرگرمیوں کے نتیجہ میں جی ایچ ایم سی کے حکام ریونیو کلکشن پر توجہ مرکوز نہیں کرسکتے۔ ذرائع کے مطابق جی ایچ ایم سی نے 8938 انفرادی عمارتوں ، 103 کمرشیل بلڈنگس 1359 اپارٹمنٹس ، دو ملٹی پلکس ، 115 رہائشی عمارتیں اور 24 کمرشیل عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دی ہے۔ نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد رئیل اسٹیٹ شعبہ نے نمایاں ترقی کی تھی۔ 2015 تا 2019 ریاست میں 917 پراجکٹس کے تحت 104355005 مربع فٹ کے لئے تعمیر کی اجازت دی گئی ۔ کورونا وباء کے دوران تعمیراتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ بلدیہ کے عہدیدار نے بتایا کہ ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ نے گزشتہ سال کے مقابلہ 170 کروڑ کم آمدنی حاصل کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2021 ء میں جی ایچ ایم سی کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اسی دوران ریاستی حکومت نے اپریل تا نومبر 2020 جی ایچ ایم سی کے لئے 312 کروڑ جاری کئے ۔ اسی دوران جی ایچ ایم سی نے خسارہ کو کم کرنے اور آمدنی میں اضافہ پر توجہ مرکوز کی ہے ۔