لبنانی مشن نے پیجر دھماکوں کی ابتدائی تحقیقات کی تفصیلات ظاہر کر دیں

   

نیویارک: اقوام متحدہ میں لبنان کے سفارتی مشن نے انکشاف کیا ہے کہ رواں ہفتے لبنان میں ہونے والے ’’پیجر‘‘ آلات کے دھماکے برقی پیغام کے ذریعے کیے گئے۔مشن نے جمعرات کے روز بتایا کہ لبنانی حکام کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ پیجر آلات کے لبنان پہنچنے سے پہلے ہی ان میں دھماکا خیز مواد نصب کر دیا گیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط کے مطابق لبنانی حکام کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیجر اور دیگر وائر لیس آلات کو برقی پیغامات بھیج کر دھماکے سے تباہ کیا گیا۔مشن نے بتایا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کا ذمے دار اسرائیل ہے۔آج جمعے کے روز 15 ممالک پر مشتمل عالمی سلامتی کونسل لبنان دھماکوں پر بات کرے گی۔حزب اللہ کے زیر استعمال مواصلاتی آلات کو نشانہ بنانے والے حملوں میں کم از کم 37 افراد ہلاک اور 3 ہزار کے قریب زخمی ہوئے۔اسرائیل نے ان حملوں پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم کی سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے پیچھے اسرائیلی انٹیلی جنس (موساد) کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی تنظیم کو اپنی تاریخ کے بڑے اور غیر معمولی حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نصر اللہ نے اسرائیل پر ہزاروں مواصلاتی آلات کو دھماکوں سے تباہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سخت حساب کی دھمکی دی ہے۔