بیروت : اسرائیل کی سیکوریٹی کابینہ نے وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت کو اختیار دیا ہے کہ وہ گولان کی پہاڑیوں میں راکٹ حملہ کے جواب کے طریقے اور وقت کے بارے میں فیصلہ کرے۔ پیر کو جنوبی لبنان میں اسرائیل کے ڈرون حملہ میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ہفتہ کو گولان کی پہاری پر ہونے والے حملہ کا الزام لبنان کے عسکری گروہ حزب اللہ پر لگایا تھا حملہ میں 12 نوجوان اور بچے ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری جانب حزب اللہ نے روز مجدل شمس کے مقام پر ہونے والے اس حملہ میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حملہ سے غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران یہ کارروائی اسرائیل یا اس کے زیرِ انتظام علاقہ میں ہونے والا ہلاکت خیز حملہ ہے۔ حملہ کے بعد اسرائیلی جیٹ طیاروں نے اتوار کو دن کے وقت جنوبی لبنان میں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ وزیرِ اعظم نیتن یاہو اپنا امریکہ کا دورہ مختصر کرکے کابینہ کے ساتھ ہنگامی اجلاس اور حالات کا جائزہ لینے کے لیے واپس تل ابیب پہنچے۔ میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ حملہ میں استعمال ہونے والا راکٹ ایرانی ساختہ میزائل تھا۔ وائٹ ہاؤس نے اتوار کو مجدل شمس کے حملہ کا ذمہ دار حزب اللہ کو ٹھہرایا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ لبنان کی حزب اللہ نے کیا تھا۔ یہ ان کا راکٹ تھا اور ان کے زیرِ کنٹرول علاقہ سے داغا گیا۔ امریکہ کی نائب صدر اور ڈیموکریٹس کی ممکنہ صدارتی امیدوار کملا ہیریس نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر کے ذریعہ کہا کہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے ان کی حمایت فولاد کی طرح مضبوط ہے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ہفتہ کو ہونے والے خوفناک حملہ کے بعد اسرائیلی اور لبنانی حکام کے ساتھ مسئلہ کے سفارتی حل پر کام کر رہا ہے۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ واشنگٹن تنازعہ میں مزید اضافہ نہیں چاہتا۔ اسرائیل کی لبنان کے ساتھ سرحد پر اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ روزانہ کی بنیاد پر رہا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ لبنان میں کسی بھی نئی مہم جوئی کا مخالف ہے جب کہ شام کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیل کو خطے میں اس خطرناک کشیدگی کا مکمل ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ حزب اللہ کے خلاف اس کے الزامات درست نہیں ہیں۔ سرحد پر جاری تنازعہ سے لبنان اور اسرائیل میں دسیوں ہزار افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لبنان میں لگ بھگ ایک لاکھ جب کہ اسرائیل میں 60 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ دونوں اطراف کئی اسکول اور صحت کے مراکز بند ہیں۔میڈیاکے مطابق اسرائیلی حملوں میں لبنان میں حزب اللہ کے 350 جنگجو اور 100 سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔