لدھیانہ: پنجاب کے لدھیانہ کے غیاث پورہ علاقے میں منگل کی علی الصبح ایک گیس اسٹوریج یونٹ میں ایک ٹینکر سے مائع کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے کم از کم پانچ مزدوروں کی طبیعت بگڑ گئی جنہیں دواخانے میں شریک کیا گیا ۔ پولیس، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی ہے اور این ڈی آر ایف کو اطلاع دی گئی ۔ لدھیانہ کے اے ڈی سی راہول چابا اور ایم ایل اے محترمہ چھینہ نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے گی۔ کچھ ہی وقت میں لیکج کو بند کردیاگیا۔ پولیس نے پلانٹ کی طرف جانے والے تقریباً تمام ڈیڑھ کلومیٹرراستوں کوبند کر دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ہرپریت آکسیجن پلانٹ میں صبح 8 بجے سیل ٹیک کمپنی کا کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک ٹینکر پہنچا تھا۔ جیسے ہی گیس کوپلانٹ میں منتقل کیاجانے لگا، پائپ لائن میں لیکیج شروع ہوگیا۔ راہول چابا نے بتایا کہ ٹینکرویل ٹیک ایکویپمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ میں لیک ہوگیا، جہاں کم ازکم چار ملازم موقع پر تھے ، جب گاڑی سے گیس کو احاطے میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ موقع پر موجود چاروں کارکن محفوظ رہے اور فوری طور پر فیکٹری کے مالک کو لیک ہونے کی اطلاع دی۔
قریبی گارمنٹس فیکٹری کے پانچ دیگر کارکنوں کو گیس کی وجہ سے چکر آنے لگے اور انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پانچوں افراد خطرے سے باہر ہیں۔