لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کیخلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری

,

   

پہلگام دہشت گردانہ حملہ کیس
نئی دہلی۔14؍جولائی ( ایجنسیز ) پہلگام دہشت گرد حملہ کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی کی خصوصی عدالت نے کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیا ہے۔این آئی اے نے 6 جولائی کو اس مقدمے میں ایک ضمنی چارج شیٹ داخل کی تھی جس کے دو دن بعد یعنی 8 جولائی کو خصوصی این آئی اے عدالت کے جج نے حافظ سعید کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا۔حکام کے مطابق اس فیصلے کی اطلاع بعد میں منظرِ عام پر آئی۔یاد رہے کہ گزشتہ سال 22 اپریل کو جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں سیاحوں سمیت 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اس حملے نے پورے ملک میں شدید تشویش پیدا کی تھی۔ این آئی اے کی تحقیقات کے مطابق اس حملے کے پیچھے لشکرِ طیبہ کی سازش تھی جس کے بعد تحقیقات مزید تیز کر دی گئیں۔ہندوستان اور امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیے گئے 76 سالہ حافظ سعید کے خلاف یہ ضمنی چارج شیٹ جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل کی گئی۔عدالت نے کہا کہ مقدمے کی غیر جانبدارانہ، جامع اور مؤثر تحقیقات کیلئے حافظ سعید کی گرفتاری اور تفتیش ضروری ہے اسی لیے ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا۔تاہم اگر حافظ سعید ہندوستان نہ بھی آئیں تب بھی مقدمے کی کارروائی جاری رہے گی۔