لوک سبھا نے پہلے ضمنی مطالبات کو منظوری دی

   

نئی دہلی : لوک سبھا نے سال 2024-25 کے لیے گرانٹس کے ضمنی مطالبات کے پہلے بیاچ کے بل میں اپوزیشن اراکین کی طرف سے لائی گئی ترمیمی تجاویز کو مسترد کر تے ہوئے آج ندائی ووٹ سے بل منظور کرلیا ۔قابل ذکر ہے کہ حکومت نے کل 87762.56 کروڑ روپے کے اضافی اخراجات کی اجازت کے لیے جمعرات کو لوک سبھا میں رواں مالی سال 2024-25 کے لیے گرانٹس کے ضمنی مطالبات کی پہلی فہرست پیش کی تھی، جس میں اضافی نقد اخراجات کا تخمینہ 44143 کروڑ روپے لگایا گیا ہے ۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے “گرانٹس کے ضمنی مطالبات: سال 2024-25 کے لیے گرانٹس کے ضمنی مطالبات – پہلے بیاچ” پر بحث کا جواب دیتے ہوئے آج لوک سبھا میں کہا کہ حکومت بدعنوانی کے خلاف سخت ہے اور کسی بھی سطح پر اقتصادی مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وجے مالیا، نیرو مودی، میہل چوکسی سمیت تمام مفرور اقتصادی مجرموں کی جائیدادیں ضبط کر لی گئی ہیں اور رقم بینکوں کو واپس کر دی گئی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مغربی بنگال میں منریگا جیسی اسکیموں میں بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں اور مرکزی تحقیقاتی ٹیم نے ریاستی حکومت کے افسران کے سامنے بے ضابطگیوں کو بے نقاب کیا ہے ، اس لیے جب تک ریاستی حکومت ان کو درست نہیں کرتی ہے ، باقی رقم مرکز سے نہیں دی جائے گی۔