لکشمن ‘ روی نائک اور ابھیلاش پاکستانی جاسوس ‘ این آئی اے نے گرفتار کیا

   

رقم کے عوض حساس دفاعی اطلاعات افشاء کرنے کا الزام ۔ وشاکھاپٹنم بحری بیڑہ جاسوسی کیس میں پیشرفت

حیدرآباد 21 فبروری ( سیاست نیوز ) قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) نے پاکستانی آئی ایس آئی سے مربوط وشاکھاپٹنم جاسوسی کیس میں مزید تین افراد کو گرفتار کرلیا ۔ یہ معاملہ حساس بحری دفاعی اطلاعات کے افشاء سے متعلق ہے ۔ مقامی پولیس کی مدد سے این آئی اے نے تین افراد کو گرفتار کیا اور اب تک اس کیس میں گرفتار شدگان کی تعداد 8 ہوگئی ہے ۔ محروس افراد کی شناخت وی لکشمن تانڈیل اور اکشے روی نائک ( اترکنڑا ضلع کرناٹک ) اور ابھیلاش پی اے ( کوچی ۔ کیرالا ) کی حیثیت سے کی گئی ۔ انہوں نے پاکستان کے انٹلی جنس کارکنوں سے سوشیل میڈیا پر رابطہ کیا تھا ۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے مطابق یہ لوگ ہندوستانی دفاعی تنصیبات سے متعلق حساس اطلاعات پاکستانی انٹلی جنس کو فراہم کر رہے تھے ۔ خاص طور پر کروار بحری اڈہ اور کوچی بحری اڈہ سے متعلق اطلاعات رقومات کیلئے سربراہ کی جارہی تھیں۔ یہ مقدمہ آندھرا پردیش میں کاؤنٹر انٹلی جنس سیل نے جنوری 2021 میں درج کیا تھا ۔ بعد میں یہ مقدمہ جون 2023 میں این آئی اے کو سونپ دیا گیا ۔ ایجنسی نے اب تک پانچ افراد کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے جن میں دو مفرور پاکستانی کارکن شامل ہیں۔ تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ پاکستانی شہری میر بلج خان نے ایک گرفتار ملزم آکاش سولنکی کے ساتھ مل کر یہ جاسوسی ریاکٹ چلایا تھا ۔ ایک اور مفرور پاکستانی انٹلی جنس کارکن کی شناخت الوین کی حیثیت سے کی گئی جس نے منموہن سریندر پانڈا اور امان سلیم شیخ کے ساتھ کام کیا تھا ۔ ان کے نام بھی چارج شیٹ میں شامل ہیں۔ کروار سے متعلق کیس اس وقت منظر عام پر آیا جب اگسٹ 2024 میں این آئی اے حیدرآباد اور بنگلورو کی ٹیموں نے علاقہ کا دورہ کیا اور بحری بیڑہ کی اطلاعات کے افشاء کی تحقیقات کی ۔ اس کارروائی کے دوران موڈا گڈا ویتن تانڈیل اور اکشے نائک کو پوچھ تاچھ کیلئے تحویل میں لیا گیا ۔ حکام نے پتہ چلایا کہ مشتبہ افراد کو ایک پاکستانی ایجنٹ نے فیس بک پر اپنے جال میں پھانسا تھا ۔ یہ خاتون ان سے 2023 میں دوست بن گئی اور ان کا اعتماد جیتا ۔ انہیں ماہانہ 5 ہزار روپئے آٹھ ماہ تک ادا کئے گئے جس کے بدلے میں ان جاسوسوں نے بحری جہازوں کی نقل و حرکت ‘ آپریشنل تفصیلات اور سکیوریٹی پروٹوکولس سے متعلق حساس اطلاعات فراہم کیں۔ مزید تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ان مشتبہ افراد اور اصل مشتبہ ملزم دیپک کے مابین بھی تعلقات ہیں جسے این آئی اے نے وشاکھاپٹنم میں 2023 میں گرفتار کیا تھا ۔ دیپک اور اس کے ساتھیوں کو رقومات منتقل کرنے وہی بینک اکاؤنٹ استعمال کیا گیا تھا جس کے ذریعہ ویتھن تانڈیل اور اکشے نائک کو رقومات منتقل کی گئی تھیں۔ دیپک اور اس کی ٹیم کو گرفتار جب کیا گیا تو کروار سے کام کرنے والے مشتبہ افراد کو بھی ادائیگیاں روک دی گئیں۔ یہ ٹیمیں اگسٹ 2024 میں کروار پہونچی تھیں جس کے بعد مزید گرفتاریاں ہوئیں اور پوچھ تاچھ کی گئی ۔