نہ گھبراؤ تم ہجر کی تیرگی سے
سحر بھی نمودار ہوگی اسی سے
لکھیم پور کھیری واقعہ کی تحقیقات
اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں کسانوں کو روند دئے جانے کے واقعہ کی تحقیقات کے مسئلہ پر سپریم کورٹ نے ایک بار پھر عدم طمانیت کا اظہار کیا ہے ۔ عدالت نے اس سے قبل بھی اترپردیش حکومت سے سوال کیا تھا کہ آیا وہ اس سارے واقعہ کی تحقیقات سے پہلو تہی کر رہی ہے ؟ ۔ آج بھی اس مسئلہ پر عدالت میں سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس ایل وی رمنا نے سوال کیا کہ ہزاروں کے مجمع میں پولیس کو صرف 23 عینی شاہدین ہی دستیاب ہوئے ہیں ؟ ۔ در اصل عدالت میں اس مسئلہ کی سماعت ہو رہی تھی اور اترپردیش حکومت کی جانب سے کل تحقیقات پر مبنی اسٹیٹس رپورٹ پیش کی گئی ۔ عدالت نے صرف 23 عینی شاہدین کے بیانات کے اندراج پر حیرت کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ اس مقام پر چار تا پانچ ہزار افراد موجود تھے اور صرف 23 عینی شاہدین کے بیانات کو پیش کیا گیا ہے ۔ اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں پیش آئے اس واقعہ کے بعد سارے ملک میں کئی گوشوں کی جانب سے تنقیدیں کی گئی تھیں اور ریاستی حکومت کی جانب سے تحقیقات پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے ۔ یہ الزاما ت بھی عائد کئے گئے تھے کہ حکومت تحقیقات میں تساہل سے کام لے رہی ہے ۔ مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ کے فرزند پر الزامات کی وجہ سے حقائق کو منظر عام پر لانے کی بجائے مرکزی وزیر کے بیٹے کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ عدالت کی جانب سے بھی اس معاملہ میں ریاستی حکومت کے تساہل پر عدم طمانیت اور ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اس واقعہ میں حقائق کو منظر عام پر لانے کی بجائے مرکزی وزیر کے دباو میں کام کر رہی ہے اور ان کے فرزند کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ابتداء ہی سے ریاستی پولیس کی تحقیقات پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے ضروری ہے کہ اجئے کمار مشرا کو مرکزی وزارت سے علیحدہ کردیا جائے ۔ تاہم مرکز کی بی جے پی حکومت نے ایسا کرنے سے سے گریز کیا ہے اور ایک طرح سے وہ بھی اس سارے معاملے میں وزیر موصوف کے فرزند کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
اس سارے معاملے میں بی جے پی برہمن ووٹوں پر نظر رکھتے ہوئے تحقیقات میں تساہل سے کام لے رہی ہے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ اترپردیش میں آئندہ سال کے اوائل میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی کیلئے صورتحال مشکل ہوسکتی ہے اگر برہمن برادری اس سے ناراض ہوجائے ۔ پہلے ہی برہمن سماج اس بات سے ناراض ہے کہ چیف منسٹر آدتیہ ناتھ صرف ٹھاکر برادری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسی شکایت کو دور کرنے کیلئے اجئے کمار مشرا کو مرکزی وزارت میں شامل کیا گیا تھا اور اب ان کے فرزند کو لکھیم پور کھیری کیس میں قرار واقعی سزا دلانے کی بجائے انہیں بچانے پر ساری توجہ مرکوز کی جا رہی ہے ۔ جو لوگ اس واقعہ میں زندگی ہار بیٹھے ہیں ان کے لواحقین سے بھی اظہار ہمدردی کرنے کی بجائے مختلف گوشوں سے کسانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ ساری کوششوں کا مقصد تحقیقات کا رخ موڑنا تھا اور عدالت کی ہدایت کے باوجود بھی حیلے بہانوں سے کام لیا جا رہا ہے ۔ عدالت کو خود اس بات کا احساس ہے کہ ملزم کے اثر و رسوخ کی وجہ سے اس سارے معاملے میں عینی شاہدین گواہی کیلئے آگے نہیں آ رہے ہوں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مرکزی وزیر کا ایک اثر ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ وزارت میں شمولیت سے قبل بھی وہ طاقتور قائدین میں شمار کئے جاتے تھے ایسے میں عینی شاہدین کو دھمکانے اور گواہی دینے سے روکنے کے الزامات بے بنیاد نہیں ہوسکتے ۔
مرکزی زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں پر جیپ دوڑا دینا اور انہیں روند دینا انتہائی غیر انسانی واقعہ تھا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اب تک ملک کے وزیر اعظم یا پھر وزیر داخلہ نے بھی اس مسئلہ پر کوئی مذمتی بیان تک نہیں دیا ہے ۔ اس کے علاوہ مرکزی وزیر کو کابینہ سے علیحدہ کرنے سے تک گریز کیا گیا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اترپردیش حکومت سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات انجام دے ۔ گواہوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کے بیانات قلمبند کئے جائیں اور جو لوگ موت کے گھاٹ اتار دئے گئے ہیں ان کے ساتھ انصاف کو یقینی بنایا جائے ۔
