انقرہ ۔ 21 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کی جانب سے لیبیا کے وسائل کی لوٹ مار کیلئے وہاں پرفوجی مداخلت کے بعد اب افریقی ملک صومالیہ کے تیل پر بھی نظریں جمائی ہوئی ہیں۔ پیرکو ترک صدر اردغان نے کہا ہیکہ صومالیہ کی حکومت نے ترکی کو اپنے علاقائی پانیوں میں تیل کے ذخائر کی تلاش کی دعوت دی ہے۔ترک میڈیا نے اطلاع دی ہیکہ صدر اردغان نے صومالی حکومت کی جانب سے صومالی علاقائی پانیوں میں تیل کی تلاش کی درخواست پرغور شروع کیا ہے تاہم اس کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے یا اردغان بحیرہ روم میں گیس کی تلاش اور قدرتی گیس کے وسائل ہتھیانے کیلئے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج سے سمندری سمجھوتہ کیا۔ ترکی مشرق وسطیٰ میں گیس کے ذخائر کے مواقع کھو دینے کے بعد لیبیا اور صومالیہ جیسے ممالک کی طرف بڑھ رہا ہے تاکہ ان ملکوں کے قدرتی وسائل پرہاتھ صاف کئے جائیں۔ اردغان کے صومالیہ میں تیل اور گیس کی تلاش سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے صومالی انٹلی جنس کے سابق نائب سربراہ عبداللہ عبد اللہ نے کو بتایا کہ ترکی کی کمپنیاں پہلے ہی کئی بندرگاہوں ، سڑکوں کی تعمیر ، آبپاشی ، زراعت اور ماہی گیری کے شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صومالی حکومت اور ترکی کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ ترکی ان تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صومالیہ کے وسائل تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔