ناراض قائدین پر نظریں، بی آر ایس کی جانب سے دولت اور عہدوں کا لالچ
حیدرآباد ۔30۔اکتوبر (سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات کے اعلامیہ کی اجرائی سے عین قبل اہم سیاسی پارٹیوں نے قائدین کی خرید و فروخت کی مہم تیز کردی ہے ۔ یوں تو انتخابات سے قبل سیاسی پارٹیوں میں ٹکٹ سے محروم عناصر کی جانب سے ناراض سرگرمیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن ناراض قائدین کو انحراف کیلئے اکسانے کے رجحان میں اضافہ انتخابی سسٹم کو آلودہ کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔ وہ دور اب نہیں رہا جب پارٹی کے ناراض قائدین مخالف پارٹی میں شمولیت کے بجائے اپنی پارٹی میں ہی خاموشی اختیار کرتے تھے لیکن اب اصول پسندی کی جگہ مفاد پرستی نے قائدین کو انحراف کے لئے مجبور کردیا ہے ۔ جس پارٹی کے پاس زیادہ دولت ہے، وہ مخالفین کے لئے اتنی زیادہ بولی لگارہے ہیں اور ایک پارٹی سے دوسرے میں شمولیت کا رجحان روزکا معمول بن چکا ہے ۔ کسی پارٹی میں ناراضگی کی اطلاع ملتے ہی مخالف پارٹی اس سے رجوع ہورہی ہے اور مختلف فوائد کی پیشکش کرتے ہوئے انحراف کی ترغیب دی جارہی ہے۔ برسر اقتدار بی آر ایس میں کانگریس اور بی جے پی سے ناراض قائدین کی شمولیت روزانہ صبح و شام دیکھی جارہی ہے۔ ناراض قائدین سے ملاقات کرنے کیلئے باقاعدہ ایک ٹیم تشکیل دی گئی جو کسی طرح ناراض قائدین کو چیف منسٹر کے دربار میں پہنچا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شمولیت کے دوسرے ہی دن سے مذکورہ قائد کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے اور وہ دوبارہ کہیں دکھائی نہیں دیتے ۔ اطلاعات کے مطابق برسر اقتدار پارٹی نے کانگریس کے ناراض قائدین پر توجہ مرکوز کی ہے اور انہیں اہم سرکاری عہدوں کی پیشکش کی جارہی ہے ۔ جس طرح برسر اقتدار پارٹی میں شمولیت کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ، کانگریس پارٹی اس معاملہ میں فنڈس کی کمی کے باعث برسر اقتدار پارٹی کے ناراض قائدین کو راغب کرنے میں سرگرم نہیں ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پارٹیوں میں انحراف کی حوصلہ افزائی کیلئے بڑے پیمانہ پر فنڈس کی ضرورت ہے ۔ برسر اقتدار پارٹی اس معاملہ میں اس لئے بھی دوسری پارٹیوں سے آگے ہے کیونکہ وہ اقتدار میں ہے اور انحراف کرنے والے قائدین کو اہم عہدوں کی پیشکش کی جاسکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق جس پارٹی میں زیادہ ناراضگیاں الیکشن سے عین قبل دیکھی جاتی ہے، وہ پارٹی دراصل اقتدار کے قریب ہوتی ہے۔ اب جبکہ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، ٹکٹوں کی تقسیم میں ناانصافی کی شکایت کرتے ہوئے محروم قائدین بی آر ایس کا رخ کر رہے ہیں۔ بی جے پی میں دیگر پارٹیوں سے شمولیت کا معاملہ نہیں کے برابر ہے، وہ اس لئے کہ بی جے پی تلنگانہ میں اپنا مقام مضبوط بنانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے اور حالیہ دنوں میں پارٹی کے کئی اہم قائدین نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ قائدین کے انحراف جسے سیاسی اصطلاح میں ’’آیا رام گیا رام‘‘ کہا جاتا ہے یہ سلسلہ رائے دہی کے دن تک جاری رہتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ منحرف قائدین سے کس پارٹی کو کتنا فائدہ ہوگا ؟