مائیگرنٹ ورکرس کے تحفظ کیلئے گورنر سے مداخلت کی اپیل، نارائنا کا سوندرا راجن کو مکتوب

   

حیدرآباد ۔21۔ مئی(سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر نارائنا نے گورنر تلنگانہ ٹی سوندرا راجن کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ میں پھنسے ہوئے مائیگرنٹ ورکرس کی منتقلی کے معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ۔ ڈاکٹر نارائنا نے مکتوب میں سابق گورنر ای ایس ایل نرسمہن کا حوالہ دیا جنہوں نے راج بھون کے دروازے عوام کیلئے کھول دیئے تھے ۔ مکتوب میں کہا گیا کہ سیاسی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں ، لہذا عوامی مسائل کی فوری یکسوئی پر توجہ دی جاسکتی ہے ۔ نارائنا نے کہا کہ آپ کے پیشرو ای ایس ایل نرسمہن سبکدوشی تک دونوں تلگو ریاستوں کے گورنر رہے۔ اگرچہ وہ بیوروکریٹ پس منظر سے تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے کامیابی کے ساتھ دونوں ریاستوں کے گورنر کی خدمات انجام دی ۔ انہوں نے اہم مواقع پر عید اور تہوار کیلئے عوام کو راج بھون میں داخلہ کا موقع دیا گیا۔ مکتوب میں کہا گیا کہ گورنر آفس کے خرچ پر سالانہ 16 کروڑ روپئے خرچ کئے جاتے ہیں جو تلنگانہ عوام کی جانب سے ادا کئے گئے ٹیکس کی رقم پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ مائیگرنٹ ورکرس نے راج بھون پہنچ کر احتجاج درج کیا، لہذا گورنر کو فوری مداخلت کرتے ہوئے اس مسئلہ کی یکسوئی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بہار ، چھتیس گڑھ ، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں کے مائیگرنٹ لیبرس کے ساتھ سی پی آئی قائدین راج بھون پہنچے تھے۔ یہ علاقہ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کشن ریڈی کا حلقہ انتخاب ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے گورنر سے درخواست کی کہ وہ مائیگرنٹ ورکرس کی روانگی کے سلسلہ میں حکومت کو ضروری ہدایات جاری کریں۔