مادر وطن کی خدمت کرنے کے خواہاں نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی

   

گزشتہ دوسال میں فزیکل امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والوں کو تحریری امتحان کی اجازت دی جائے :بھگونت مان

چنڈی گڑھ۔پنجاب کے چیف منسٹر بھگونت مان نے ہفتہ کو کہا کہ جن نوجوانوں نے پچھلے دو سالوں میں جسمانی ٹسٹ میں کامیابی حاصل کی ہے انہیں اگنی پتھ کو لاگو کرنے کے بجائے ہندوستانی فوج میں شامل ہونے کے تحریری امتحان میں بیٹھنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ سکیماس اسکیم کو واپس لینے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ پچھلے دو سالوں سے ہزاروں نوجوانوں نے مسلح افواج کا فزیکل ٹسٹ کامیاب کیا ہے لیکن انہیں تحریری امتحان کے لیے نہیں بلایا گیا۔اس کے برعکس، این ڈی اے حکومت نے ایک سنسنی خیز اقدام میں اگنی پتھ اسکیم متعارف کروائی ہے جس کے تحت فوج میں نوجوانوں کو چار سال کی مختصر خدمات کی اجازت دی گئی ، بغیر کسی پنشن کے اس اسکیم کو نافذ کیا جارہا ہے۔مان نے کہا کہ یہ ملک کے نوجوانوں کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے جو ہندوستانی فوج میں شامل ہوکر اپنی مادر وطن کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مرکزی حکومت کو اس اسکیم کو واپس لینا چاہئے اور نوجوانوں کو جنہوں نے پچھلے دو سالوں میں اپنے جسمانی امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے، تحریری امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دے۔انہوں نے کہا کہ اس سے انہیں ہندوستانی فوج میں شامل ہونے اور اپنی مادر وطن کی خدمت کرنے کا ایک مناسب موقع ملے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ ملک کے نوجوانوں کی محنت کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔یاد رہے کہ مرکز ی حکومت کی اگنی پتھ پالیسی کے خلاف اس وقت سارے ہندوستان میں پرتشدد احتجاج ہورہا ہے اور مختلف ریاستوں میں ریلوئے اسٹیشنوں اور سرکاری املاک کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔