نئی دہلی : تلنگانہ، آندھرا پردیش اور کچھ دیگر جنوبی ریاستوں میں پھیلی غریب دلت مادیگا کمیونٹی کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے کچھ ٹھوس قدم اٹھانے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے وعدے کو آگے بڑھاتے ہوئے ، حکومت نے کابینہ سکریٹری کی صدارت میں سکریٹری سطح کے افسران کی ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ ذرائع کے مطابق یہ اعلیٰ سطح کی کمیٹی رواں ماہ تشکیل دی گئی ہے ۔ کمیٹی میں داخلہ، سماجی انصاف اور تفویض اختیارات، قبائلی امور اور قانون کی وزارتوں کے سیکرٹریوں کو شامل کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی خاص طور پر چمڑے کے کام سے وابستہ غریب مادیگا کمیونٹی کو سرکاری اسکیموں اور سہولیات کا فائدہ پہنچانے کے لیے کوششیں کرنے کی سفارش کرے گی۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نومبر میں تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے دوران مادیگا برادری کے مسائل کو خاص طور پر اٹھایا تھا اور اس کمیونٹی کو مناسب انصاف کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مادیگا کمیونٹی کافی عرصے سے مطالبہ کر رہی ہے کہ اسے درج فہرست ذات کے ذیلی گروپ کے طور پر شامل کیا جائے تاکہ اسے ریزرویشن سسٹم کے خصوصی فوائد مل سکیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی ذیلی زمرہ بندی کے مادیگا کمیونٹی کے مطالبے پر کوئی سفارش شاید ہی کر سکے کیونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے ۔ سپریم کورٹ کے ججوں کی سات رکنی بنچ اس بات پر غور کرے گی کہ آیا درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے درمیان ذیلی درجہ بندی کرنا جائز ہے یا نہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی مادیگا کمیونٹی کو راغب کرنے کے لیے اس کمیونٹی کو ذیلی گروپ میں شامل کرنے کے ان کے مطالبے کی حمایت کرنے کا وعدہ کر رہی ہے ۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے علاوہ یہ کمیونٹی کرناٹک اور تمل ناڈو کے کچھ علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے ۔
اگر اس زمرے کو درج فہرست ذات کے ذیلی زمرے میں رکھا جائے تو اس طبقہ کے امیدواروں کو درج فہرست ذات کے لیے مخصوص نشستوں کے تحت انتہائی پسماندہ ذیلی گروپوں کے لیے 15 فیصد ریزرویشن کا خصوصی فائدہ حاصل ہو سکے گا۔ ذیلی گروپوں کو اس طرح کے خصوصی فوائد درج فہرست ذات کی آبادی میں ان کے تناسب کے مطابق دیئے جاتے ہیں۔ سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت کے ایک اعلیٰ افسر نے یو این آئی کو بتایا ‘‘کمیٹی مادیگا کمیونٹی کی تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے مسائل کا جائزہ لے گی اور اس پر حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ افسران نے کہا کہ کمیٹی مادیگا کمیونٹی کی معاشی اور سماجی حالت کا بھی مطالعہ کرے گی اور اس کی رپورٹ دے گی۔ مادیگا کمیونٹی کے لیڈر 1990 کی دہائی کے وسط سے اس کمیونٹی کو درج فہرست ذات کے ذیلی گروپ میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر پہلے 1996 میں جسٹس پی رام چندر راجو کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا گیا، بعد میں 2007 میں ایک قومی کمیشن نے بھی ذیلی گروپ کے معاملے کو دیکھا اور دونوں نے اس کے لیے کچھ تجاویز دیں۔ تمل ناڈو، بہار، پنجاب جیسی کئی ریاستوں نے حالیہ دہائیوں میں ذیلی زمرہ بندی کا نظام لاگو کیا ہے تاکہ درج فہرست ذاتوں کے تحت انتہائی پسماندہ ذاتوں کو ریزرویشن کا خصوصی فائدہ دیا جا سکے ، لیکن یہ معاملے عدالت میں الجھے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے گزشتہ 11 نومبر کوسکندرآباد میں ایک انتخابی ریلی میں مادیگا برادری کے ایک بزرگ مندا کرشنا کو اسٹیج پر مدعو کیا تھا اور ان سے بات کی تھی۔ مسٹر مندا کرشنا گفتگو کے دوران جذباتی ہو گئے اور وزیر اعظم نے انہیں دلاسہ دیا تھا۔ اسی ریلی میں مسٹر مودی نے مادیگا کمیونٹی کی موجودہ حالت کے لئے کانگریس اور اس وقت کی حکمران بھارت راشٹرا سمیتی پر تنقید کی تھی۔