مارشل آرٹ چمپئن سمرن فاطمہ کو ایم بی بی ایس میں فری سیٹ

   

Ferty9 Clinic


سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے 95 ہزار روپئے کی امداد
تیسری اور پانچویں جماعت پاس والدین کی بیٹی نے رقم کی تاریخ
حیدرآباد : وہ ایک ذہین اور ہونہار طالبہ ہے تعلیم پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے۔ ساتھ ہی پابند صوم صلواۃ ہے۔ اس نے تعلیم کے میدان میں جہاں کامیابی کے جھنڈے گاڑھے وہیں لڑائی کے میدان میں بے شمار کارنامے انجام دیائے ہیں۔ آپ لوگ لڑائی کا نام سن کر چونک گئے ہوں گے مت چونکئے! بات یہ ہے کہ اسی لڑکی نے مارشل آرٹ کے قومی مقابلوں میں غیر معمولی مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے اب تک مارشل آرٹ کے 5 قومی مقابلوں میں حصہ لیا۔ تین میں کامیابی حاصل کی۔ اسے بچپن سے ہی کراٹے سیکھنے اور کراٹے چمپئن بننے کا شوق تھا چنانچہ 8 سال کی عمر سے ہی وہ کراٹے کی تربیت حاصل کرنی شروع کردی۔ وہ کراٹے چمپئن بھی ہے اور ہونہار طالبہ بھی۔ اب اسے قدرت نے ایک اور اہم کامیابی عطا کی ہے۔ نیٹ میں 479 نمبرات حاصل کرنے والی اس باحوصلہ لڑکی کو ڈاکٹر وی آر کے ویمنس میڈیکل کالج کے ایم بی بی ایس میں مفت داخلہ ملا ہے۔ قارئین ہم بات کررہے ہیں فلک نما کی رہنے والی سمرن فاطمہ کی جس کی ہمیشہ سے ہی روزنامہ سیاست اور ایڈیٹر سیاست نے حوصلہ افزائی کی ۔ سمرن فاطمہ کے والد سائیکل رپیرنگ کا کام کرتے ہیں۔ غازی ملت کالونی چندرائن گٹہ میں سید جعفر سائیکل میکانک کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے صرف تیسری جماعت تک تعلیم حاصل کی جبکہ ان کی اہلیہ سمینہ بیگم پانچویں جماعت پاس ہیں لیکن دونوں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔ غربت کو ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دیا نتیجہ میں سمرن فاطمہ کے برے بھائی سید عامر سیول انجینئرنگ کررہے ہیں جبکہ دوسرے بھائی سید عمر ایم سی اے میں زیر تعلیم ہیں۔ سمرن فاطمہ نے اپنے تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتایا کہ انہو ںنے ایس ایس سی سینٹ مارکس بوائز ٹائون ہائی اسکول سے کیا اور 9.2 نمبرات حاصل کئے اسی طرح انٹرمیڈیٹ نارائنا جونیئر کالج سنتوش نگر سے کیا اور 1000 میں سے 980 نمبرات حاصل کرنے میں انہیں کامیاب ملی۔ دفتر سیاست میں سمرن فاطمہ کو تہنیت پیش کرتے ہوئے ایڈیٹر جناب زاہد علی خان اور سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے 95 ہزار روپئے سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے سمرن فاطمہ کے حوالے کئے۔ اس موقع پر فیض عام ٹرسٹ کے رکن مجلس عاملہ جناب سید حیدر علی بھی موجود تھے۔ سمرن فاطمہ کو فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے 60 ہزار روپئے کا چیک اور 17500 نقد رقم اور سیاست ملت فنڈ کی جانب سے 17500 کا چیک (جملہ 95 ہزار روپئے) پیش کئے گئے اور اس ہونہار طالبہ سے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ سیاست سے بات کرتے ہوئے سمرن فاطمہ نے بتایاکہ والدین نے ان کی اور ان کے دونوں بھائیوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اللہ عزوجل کا شکر ہے کہ ان کی مدد کے لیے سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ جیسے ادارہ آگے آئے۔ سمرن کے مطابق 2017-18 سے انہیں فیض عام ٹرسٹ نے اسپانسر کیا اور فوکس اکیڈیمی سے نیٹ کی کوچنگ دلائی۔ 2018ء میں انہیں اسٹار آف فیض عام ٹرسٹ سے بھی نوازا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں سمرن کا کہنا تھا کہ وہ 12 گھنٹے مطالعہ کرتی رہی۔ ماں باپ دونوں نے بہت حوصلہ افزائی کی۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی اور جناب افتخار حسین کی وقت بروقت مدد حاصل رہی۔ سمرن نے یہ بھی بتایا کہ انشاء اللہ وہ اپنے ننیال اور ددیال میں پہلی ڈاکٹر ہوں گی جس کے لیے وہ ہر وقت بارگاہ رب العزت میں دعا کرتی رہتی ہیں۔ سمرن کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا کہ وہ تہجد گزار ہیں۔ اپنے مستقبل کے منصوبوں سے متعلق سید جعفر اور سمینہ بیگم کی ہونہار بیٹی نے بتایا کہ وہ انشاء اللہ ماہر امراض قلب بنیں گی۔ آج وہ جس مقام پر ہیں اس کے لیے ہر لمحہ اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں اور اپنے پیارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود و سلام بھیجتی ہیں۔ دختران ملت کے نام پیام میں سمرن فاطمہ نے بتایا کہ لڑکیوں کو آگے بڑھ کر اپنے عزائم کی تکمیل کرنی چاہئے۔ اگر آپ ذہین ہیں ہونہار ہیں تو غربت کی فکر ناکریں اللہ تعالیٰ آپ کے لیے خود وسائل پیدا کرے گا سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ جیسے ادارے جناب زاہد علی خان اور جناب افتخار حسین جیسی خدا ترس رحمدل اور ملت کی ہمدرد شخصیتیں موجود ہیں۔ وہ آپ کی ہر ممکن مدد کے لیے آگے آئیں گے۔ اس طرح جس طرح میری (سمرن فاطمہ) مدد کے لیے آگے آئے۔ یہ ادارے اور شخصیتیں ہمارے لیے ساری ملت کے لیے ایک نعمت ہیں اور ہم ہمیشہ ان کے حق میں دعا کرتے ہیں۔ سمرن فاطمہ نے بطور خاص لرکیوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم اور نمازوں کی پابندی پر بھی توجہ مرکوز کریں۔