مانسون اجلاس میں مختلف امور پر حکومت سے جواب مانگنے کی تیاری : کانگریس

   

ایس آئی آر، خارجہ پالیسی، قومی سلامتی، حدبندی اور ایک ملک ایک الیکشن‘ اہم مدعے: جے رام رمیش

نئی دہلی۔ 4 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں انڈیا اتحاد کی حلیف جماعتوں کے ساتھ مل کر الیکشن کمیشن کے طریقہ کار، خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر)، خارجہ پالیسی، قومی سلامتی، چین اور امریکہ سے جڑے تجارتی مسائل، حد بندی، ایک ملک ایک الیکشن، بدعنوانی کے الزامات اور جمہوری اداروں کے کام کاج سمیت عوامی مفاد کے مختلف امور پر حکومت سے جواب مانگا جائے گا۔ کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کے روز یہاں ایک بیان میں کہا کہ پارٹی صرف مانسون اجلاس کی حکمت عملی پر ہی کام نہیں کر رہی ہے بلکہ آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے ۔ ریاستوں میں تنظیمی میٹنگوں کا دور جاری ہے اور کانگریس اپنے تنظیم کو مضبوط کرنے کے علاوہ انڈیا اتحاد کی حلیف جماعتوں کے ساتھ پارلیمنٹ کے اندر حکومت کو مختلف امور پر گھیرنے کی حکمت عملی بنا رہی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کو نہ صرف بی جے پی سے بلکہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ سے بھی مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے ایس آئی آر اور انتخاب سے متعلق دیگر عمل کو لے کر ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی سمیت اپوزیشن کی 24 جماعتوں اور آزاد رکن پارلیمنٹ کپل سبل کے لکھے گئے مشترکہ خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ طریقے سے کام نہیں کر رہا ہے اور بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں۔ اگر انتخابی نتائج پہلے سے طے ہونے کا تاثر بن جائے تو جمہوریت اور انتخابی عمل کی اہمیت ہی ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو غیر جانبدارانہ طریقے سے کام کرنے کی ہدایت دے گا۔ رمیش نے کہا کہ حکومت مانسون سیشن میں حد بندی بل اور ’ایک ملک ایک الیکشن‘سے متعلق تجویز دوبارہ لا سکتی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی دو تہائی اکثریت حاصل کر کے آئین میں تبدیلی کرنا چاہتی ہے اور سماجی انصاف اور ریزرویشن کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سیشن سے پہلے کل جماعتی میٹنگ اب محض ایک رسم بن کر رہ گئی ہے کیونکہ اس میں اپوزیشن کی باتیں سنی تو جاتی ہیں لیکن پارلیمنٹ کا اصل ایجنڈا وزیر اعظم اور وزارت داخلہ کا دفتر طے کرتا ہے ۔
حکومت کی خارجہ پالیسی پر رمیش نے کہا کہ ’آپریشن سندور‘کے دوران ہماری سکورٹی فورسز نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی لیکن ہندوستان کی سفارت کاری کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہشت گردی کو پناہ دینے والے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اہمیت مل رہی ہے ۔ انہوں نے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے ، امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدہ اور خارجہ پالیسی پر پارلیمنٹ میں بحث نہ ہونے کو بھی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔ کانگریس لیڈر نے بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں بدعنوانی کے الزامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ایودھیا، کیدارناتھ اور بدری ناتھ میں چڑھاوے سے جڑے معاملات، مدھیہ پردیش کے مبینہ زرعی گھوٹالے اور اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سے جڑے الزامات سمیت تمام معاملات پر مانسون سیشن میں حکومت سے جواب مانگے گا۔