ماہِ صفر منحوس نہیں ہے

   

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’لَا عَدْوٰی، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَّةَ، وَلَا صَفَرَ‘‘۔ ’’کوئی بیماری متعدی نہیں، بدفالی اور بدشگونی کی بھی کچھ حقیقت نہیں۔ نہ اُلو کا بولنا (کوئی برا اثر رکھتا)ہے اور نہ ہی ماہ صفر(منحوس)ہے۔ (صحیح بخاری)
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: فَرِّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ کَمَا تَفِرُّ مِنَ الْاَسَدِ جذامی (یعنی کوڑھ والے) شخص سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو ۔(صحیح بخاری)
ان دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض معلوم ہو رہا ہے یعنی ایک طرف تو نبی کریم ﷺبدشگونی اور توہم پرستی کی نفی فرما رہے ہیں کہ کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور دوسری طرف آپ ﷺ کوڑھی سے بھاگنے اور اس سے دور رہنے کی ہدایت فرما رہے ہیں ۔شارح صحیح بخاری امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :ان دونوں حدیثوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بعض بیماریاں متعدی ہوتی ہیں ، یا مریض سے میل جول تندرست شخص کے بیمارہو جانے کا باعث بن جاتا ہے، بلکہ ان کامطلب صرف یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تندرست آدمی کا اعتقاد بگڑ جائے وہ یہ سمجھنے لگے کہ میں بیمار آدمی کے ساتھ ملنے کی وجہ سے بیمار ہو گیا ہوں ، یعنی چھوت کا قائل ہو جائے،اس لیے ضعیف الاعتقاد لوگوں کا ایمان بچانے کے لیے آپ ﷺ نے یہ ہدایت جاری فرمائی۔شارح مسلم امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں ۔ پہلی حدیث میں جاہلیت کے اس عقیدہ و خیال کی تردید ہے کہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بیماریوں کے پھیلنے میں اللہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بلکہ وہ اپنے طور پر پھیلتی رہتی ہے۔لیکن اس میں اس بات کا انکار نہیں ہے کہ اللہ کے فیصلہ کے تحت متعدی امراض سے نقصان پہنچتا ہے۔ دوسری حدیث میں اللہ تعالیٰ کی مشیت اور فیصلہ کے تحت جن چیزوں سے بالعموم نقصان پہنچتا ہے ان سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہی جمہور علماء کا مسلک ہے اور اِسی کو اختیار کیا جانا چائیے ۔