ماہ رمضان اور مسلمان

   

Ferty9 Clinic

زندگی اک سوال کرتی ہے
تم مجھے کس طرح بتاؤ گے؟
ماہ رمضان المبارک کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ با برکت اور مقدس مہینہ اپنی تمام رحمتوں ‘ برکتوں اور عظمتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہوگیا ہے ۔ ساری دنیا کے مسلمان اس مہینے میں رجوع الی اللہ ہو تے ہیں اور اپنے گناہوں سے دوری اختیار کرتے ہیں۔ گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرتے ہوئے اس کی رحمت اورا س کے فضل و کرم کے طلبگار ہوتے ہیں۔ ویسے تو ہر سال ماہ رمضان المبارک اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ آتا ہے اور اپنی نعمتیں لٹاتا ہے ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان ہم پر سایہ فگن ہوگیا ہے تاہم ہمیں اپنے آپ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اس ماہ مبارک کا استقبال اس کے شایان شان کیا ہے یا نہیں۔ کیا ہم نے اپنے آپ کو اپنے نفس کی غلامی سے پاک کرکے رمضان کی تیاری کی ہے کہ نہیں ۔ ہمیں اپنے آپ میں تقوی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اپنے ظاہر کی طرح اپنے باطن کو بھی پاک کرتے ہوئے خالص للہیت کے ساتھ اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں رجوع ہونے کی ضرورت ہے ۔ ماہ رمضان ہمیں جو پیام دیتا ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ یہ مقدس مہینہ صرف بھوکے یا پیاسے رہنے کا نام نہیں ہے ۔ اس ماہ میں خود کو اللہ کی رضاء کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم سال بھر اللہ تبارک و تعالی کے احکامات اور پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق عمل کرتے رہیں۔ ہمیں اپنے باطن کو پاک کرتے ہوئے تقوی والی زندگی کو محسوس کرنے اور اسے گذارنے کی ضرورت ہے ۔ صرف بھوک پیاس پر اکتفاء نہیں کرنا بلکہ زندگی کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے ہوئے خود کو احکام خداوندی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں اس ماہ مبارک کے پیام کو سمجھ سکیں اورا س کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں جاری کرسکیں۔ یہ ماہ مبارک ہمیں دوسروں کی تکلیف اور پریشانیوں کو سمجھنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے ۔ دوسروں کی غمخواری اور مدد کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور اس کا ہمیں بارہا حکم بھی دیا گیا ہے ۔
اسلام نے جو احکام دئے ہیں ان پر پوری طرح عمل کرتے ہوئے ہمیں اپنے عزیز و اقارب ‘ رشتہ داروں اور پاس پڑوس کے لوگوں کی بھی دل کھول کر مددکرنے کی ضرورت ہے ۔ صرف ضابطہ کی تکمیل سے اسلام کے احکام کی تعمیل نہیںہوسکتی ۔ عزیز و اقارب اور پڑوسیوں کی مدد کی ہمیں بارہا تلقین کی گئی ہے اور اس کو صدق دل کے ساتھ پورا کرنے کی ضرورت ہے ۔ بیواؤں اور یتیموں کی مدد میں ہمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہے ۔ یہ مقدس مہینہ احکام خداوندی پر عمل کرتے ہوئے آخرت کی کمائی کرنے کا مہینہ ہے ۔ دلوں کو کدورتوں سے پاک کرنے اور ایک دوسرے سے میل جول اور محبت و اخوت کو فروغ دینے کا مہینہ ہے ۔ دل کو حسد اور جلن سے پاک کرنے کا مہینہ ہے ۔ دنیاوی طلب کی خاطر نیک اعمال کرنے اور دکھاوا کرنے سے ہمیں بچنا چاہئے ۔ ریاکاری ایک انتہائی کریہہ گناہ ہے اور اس کی سخت ترین وعید ہے ۔ ہمیں دوسروں کی مدد کرتے ہوئے ان پر احسان کرنے کا جذبہ نہیں رکھنا چاہئے بلکہ خداوند تعالی کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے کہ رب تبارک و تعالی نے ہمیں مانگنے والا نہیں بلکہ دینے والا بنایا ہے ۔ کسی کی مدد کرتے ہوئے تصویر کشی کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ یتیموں اور غریبوں کی داد رسی کرتے ہوئے ان کے ساتھ نازیبا سلوک نہیں کیا جانا چاہئے ۔ انہیں بھی اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں میں حصہ دار بنانے کا جذبہ ہمیں اپنے آپ میں پیدا کرنا چاہئے ۔ اپنے آپ کو مثبت انداز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔
اللہ رب العزت نے اس ماہ مبارک میں جو عبادات کا حکم دیا ہے ان کو بجالانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھنی چاہئے ۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے اعمال اور اپنے کردار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج دنیا بھر میں ہم ذلیل و رسواء کیوں کئے جا رہے ہیں۔ ہم پر ظالم حکمران کیوں مسلط کردئے گئے ہیں۔ ہمارے عمل میں کیا کچھ کوتاہیاں ہیں جس کی ہمیں سزا مل رہی ہے ۔ اجتماعی اور انفرادی سطح پر اعمال کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں خود میں اور اپنے کردار میں تبدیلی لانے اور اسلامی تعلیمات پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہوجانے کی ضرورت ہے ۔ جب ہم اسلامی تعلیمات پر کامل عمل پیرا ہوجائیں گے تب ہی ہم رمضان کی رحمتوں و برکتوں کے حقیقی حقدار کہلائیں گے ۔
سری لنکا میں سنگین معاشی بحران
پڑوسی ملک سری لنکا میں سنگین معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے ۔ عوام انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔ غذائی اجناس کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے اور اس قیمت پر بھی غذائی اجناس عوام کو دستیاب تک نہیں ہیں۔ فیول کی انتہائی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ لوگ گھنٹوں قطار میں کھڑے ہو کر بھی پٹرول اور ڈیزل حاصل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ عوام اب حکومت کے خلاف احتجاج پر اتر آئے ہیں۔ بجلی سربراہی نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے ۔ عوام اب صدر سری لنکا کی قیامگاہ تک پہونچ گئے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت نے حالات پر قابو کرنے اور بہتر بنانے کے اقدامات کی بجائے ملک میںایمرجنسی نافذ کردی ہے ۔ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور احتجاج کرنے والے عوام کو گرفتار کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کو اس طرح کے اقدامات سے گریز کرتے ہوئے جلد از جلد ملک کو معاشی بحران سے بچانے اور عوام کو راحت فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ عالمی معاشی اداروں اور اقوام متحدہ کو بھی سری لنکا کے حالات کو بہتر بنانے میں تعاون کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوام انتہائی مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں بہرقیمت راحت فراہم کی ج