متحدہ مقابلہ اور ڈسپلن کے ذریعہ اسمبلی انتخابات میں کامیابی ممکن

,

   

کانگریس کا توسیعی اجلاس، سروے کی بنیاد پر پارٹی ٹکٹ، مانک راؤ ٹھاکرے اور ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔22۔مئی (سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے ضمن میں پردیش کانگریس کمیٹی کا توسیعی اجلاس آج گاندھی بھون میں منعقد ہوا۔ کرناٹک کی طرح پارٹی قائدین میں اتحاد پیدا کرنے کے مقصد سے یہ اجلاس طلب کیا گیا جس میں تلنگانہ کے انچارج مانک راؤ ٹھاکرے نے واضح کردیا کہ پارٹی میں ڈسپلن شکنی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ توسیعی اجلاس میں عاملہ کے عہدیداروں ، سابق صدور پردیش کانگریس ، ارکان مقننہ ، سابق وزراء ، ضلع صدور اور محاذی تنظیموں کے قائدین نے شرکت کی۔ مانک راؤ ٹھاکرے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی سرگرمی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈسپلن کی برقراری اولین ترجیح رہے گی ۔ انہوں نے قائدین سے کہا کہ وہ غلطی سے بھی کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے پارٹی کو نقصان ہو۔ ٹھاکرے نے امید ظاہر کی کہ کرناٹک میں جس طرح کانگریس کو کامیابی ملی ہے ، اسی طرح تلنگانہ میں کانگریس کامیاب رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو صرف کانگریس سے اختلاف ہے جبکہ وہ بی جے پی کے ساتھ دوستانہ ماحول میں ہیں۔ تلنگانہ کے عوام کو بی آر ایس اور بی جے پی کی خفیہ مفاہمت سے واقف کرانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں عوام کو درپیش مسائل پر ہر سطح پر جدوجہد کی جائے۔ مانک راؤ ٹھاکرے نے کہا کہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں اور ہر کسی کو الیکشن کیلئے تیار ہوجانا چاہئے ۔ عوام کا اعتماد کانگریس پر بحال کرنے کی مساعی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے قائدین جو عہدوں پر رہتے ہوئے کام نہ کریں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کسی کام کی ذمہ داری دیئے جانے پر اگر ممکن نہ ہو تو پہلے سے معذرت کرلیں۔ ذمہ داری لینے کے بعد خاموشی اختیار کرنے کی صورت میں کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف سرگرم کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ ٹھاکرے نے کہا کہ سروے کی بنیاد پر انتخابی ٹکٹ الاٹ کئے جائیں گے۔ پیروی اور اعلیٰ قیادت سے ربط کے ذریعہ پارٹی ٹکٹ حاصل نہیں ہوگا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کی کامیابی کیلئے ماحول سازگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی نفرت کی سیاست کے خلاف راہول گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کی ہے۔ بی جے پی حکومت عوامی شعبہ کے اداروں کو تباہ کر رہی ہے۔ عوامی اثاثہ جات اڈانی کے حوالے کئے جارہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ راہول گاندھی کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیاں کی گئیں۔ انہوں نے کرناٹک کے عوام سے کانگریس کو کامیاب کرنے پر اظہار تشکر کیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں ہم متحد ہوکر کام کریں تو کامیابی ہماری ہوگی۔ اجلاس میں قرارداد منظور کرتے ہوئے سونیا گاندھی ، راہول گاندھی ، پرینکا گاندھی ، ملکارجن کھرگے ، سدا رامیا اور شیو کمار کو مبارکباد پیش کی گئیں۔ کانگریس کی جانب سے جاری کردہ یوتھ ڈکلیریشن کی گاؤں گاؤں تشہیر کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2 جون کو راجیو گاندھی آن لائین کوئیز مقابلہ کیلئے 100 اسمبلی حلقہ جات سے 25 لاکھ افراد کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ ہر اسمبلی حلقہ سے 20 تا 30 ہزار افراد کا رجسٹریشن ہونا چاہئے ۔ کوڑنگل اسمبلی حلقہ کی ذمہ داری ریونت ریڈی نے اپنے ذمہ لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2 جون کو ضلع منڈل اور گاؤں کی سطح پر یوم تاسیس تلنگانہ تقاریب منائی جائیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ پارٹی میں کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ اور کوئی بھی دوسری پارٹی کا جاسوس نہیں ہے۔ انہوں نے قائدین سے کہاکہ وہ پارٹی کی کامیابی کیلئے متحرک ہوجائیں۔ توسیعی اجلاس میں ورکنگ پریسیڈنٹ مہیش کمار گوڑ ، انجن کمار یادو ، وی ہنمنت راؤ ، پونالہ لکشمیا ، محمد علی شبیر ، رکن اسمبلی سیتکا، اے آئی سی سی سکریٹریز روہت چودھری ، ندیم جاوید ، سمپت کمار ، مدھو یاشکی گوڑ ، بلرام نائک ، مہیش کمار گوڑ ، پونم پربھاکر اور دوسروں نے شرکت کی۔ر