ہندوستان میں ایسا لگتا ہے کہ اب ہر کام فرقہ پرستی کا شکار ہوتا جا رہا ہے ۔ متعصب ذہنیت اب ان لوگوں میں بھی انتہاء کو پہونچ رہی ہے جن کا کام عوام کی ذہن سازی کرتے ہوئے انہیں فرقہ وارانہ لعنتوں سے دور کرنا ہے ۔ ٹائیر بنانے والی ایک کمپنی نے سماجی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے ایک اشتہار تیار کیا ہے جسے ٹی وی چینلوں پر نشر کیا جا رہا ہے ۔ اس اشتہار میں اداکار عامر خان کی خدمات لی گئی ہیں۔ کمپنی نے عوام کو یہ پیام دینے کی کوشش کی ہے کہ دیوالی کے موقع پر گلیوں اور سڑکوں پر آتش بازی نہ کی جائے ۔ یہ ایک طرح سے سماجی بھلائی اور بہتری کی ذمہ داری کو سمجھنے والا اشتہار تھا جس کے ذریعہ عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہر شئے کو متعصب اور فرقہ وارانہ جنون کی نظر سے دیکھنا بی جے پی کے ذمہ دار قائدین کیلئے لازمی ہوگیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے کرناٹک سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اننت کمار ہیگڈے نے اس کو ایک الگ ہی رنگ دینے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے آتشبازی کو سڑکوں پر نہ کرنے کا مشورہ دینے پر کمپنی کے سی ای او کو ایک مکتوب روانہ کردیا ہے اور کہا کہ وہ مساجد سے لاؤڈ اسپیکروں سے دی جانے والی اذانوں اور سڑکوں پر نماز کی ادائیگی کے خلاف بھی اشتہار بنائیں۔ ویسے تو فرقہ پرست اداروں اور تنظیموں کی جانب سے مسلسل مسلمانوں کی مساجد میں اذانوں اور نماز کے تعلق سے اشتعال انگیز تبصرے کئے جاتے ہیں۔ اذانوں کو روکنے کیلئے عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے جاتے رہے ہیں لیکن جس طرح سے اننت کمار ہیگڈے نے مکتوب روانہ کرتے ہوئے اپنی فرقہ پرست جنونیت کا اظہار کیا ہے وہ انتہائی بدبختانہ اور افسوسناک ہے ۔ اس طرح سے انہوں نے اپنی حقیقی ذہنیت کو آشکار کردیا ہے ۔ اس ملک میں ہر شہری کو اپنے مذہبی حقوق حاصل ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنی عبادت وغیرہ کرتا ہے ۔ ہر مذہب کے ماننے والوں کو ان کی آزادی اور حقوق دئے گئے ہیں ۔ سبھی گوشے ان حقوق کا احترام کرتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اننت کمار ہیگڈے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کی وجہ سے سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔
ایک کمپنی کی جانب سے عوام میں شعور بیدار کرنے اور عوام کا بھلا کرنے کیلئے جاری کئے گئے اشتہار کو فرقہ وارانہ رنگ دینا ان کی متعصب ذہنیت کو آشکار کرتا ہے ۔ کمپنی نے جو اشتہار تیار کیا ہے اس کا مقصد ہندووں کے جذبات کو ٹھیس پہونچانا نہیں تھا بلکہ ایک سماجی شعور بیدار کرنا مقصد تھا ۔ اکثر دیوالی کے موقع پر کئی گوشوں کی جانب سے اس طرح کے اشتہارات دئے جاتے ہیں۔ فلمی اور دوسری اہم شخصیتوں کی خدمات حاصل کرتے ہوئے عوام کو پیام دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عیدوں یا تہواروں کے موقع پر انسانی جانوں کو نقصان سے بچانے کے اقدامات کئے جائیں۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی کے طور پر ایک اشتہار ایک کمپنی نے تیار کرتے ہوئے جاری کیا ہے لیکن اس میں بھی فرقہ پرستی کو شامل کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ بی جے پی اننت کمار ہیگڈے نے ایک غلط مثال قائم کی ہے ۔ ایک خاندان یا ایک شہر یا ایک ریاست کی حفاظت در اصل ملک کی حفاظت کے مترادف ہوتی ہے ۔ ہر شہری کو سماجی ذمہ داری کے تعلق سے باشعور بنانے کی کوشش کئی گوشوں کی جانب سے کی جاتی ہے اور ایسی کوششوں کی ستائش کی جانی چاہئے ۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کم از کم اس کو فرقہ وارانہ نظر سے تو نہ دیکھا جائے ۔ لیکن بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کی وجہ سے اس طرح کی روایت کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے اس میں اذان اور نماز کو گھسیٹتے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔
رکن پارلیمنٹ کو شائد اس بات سے بھی زیادہ تکلیف پہونچی ہے کہ اس اشتہار میں اداکار عامر خان کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کئی گوشوں کی جانب سے انہیں خان نامی اداکاروں کو مخالف ہندو قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جو فلمی اداکار ہیں وہ سبھی مذاہب کے ماننے والوں میں اپنے پرستار رکھتے ہیں ۔ ایک طرح سے سارے سماج اور ماحول کو فرقہ وارانہ تعصب کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایسی کوششوں کی مذمت کی جانی چاہئے ۔ خود بی جے پی رکن پارلیمنٹ کو بھی اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے اور یہ احساس ضروری ہے کہ ہر شئے کو فرقہ واریت کی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔
