ویسے تو ہندوستان میں ہر سیاسی جماعت یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ سیاست کو جرائم سے پاک رکھنا چاہتی ہے ۔ مجرمین کو سیاست میں داخلہ سے روکا جانا چاہئے ۔ عوام میں سیاسی جماعتیں اس طرح کے بلند بانگ دعوے کرتی رہتی ہیں لیکن جب انتخابات کا وقت آتا ہے تو کوئی بھی جماعت اپنے قول پر عمل کرنے تیار نہیں ہوتی اور ہر جماعت سے ایسے امیدواروں کو میدان میں اتارا جاتا ہے جو مجرمانہ پس منظر رکھتے ہیں۔ ایسے امیدواروں کی طاقت پر ہی سیاسی جماعتیں بھروسہ کرتی ہیں اور پھر ان کے بل پر اسمبلی اور پارلیمنٹ میں اپنے ارکان کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔ کئی گوشوں سے یہ اصرار کیا جاتا ہے کہ یہ جماعتیں مجرمانہ پس منظر کے حامل افراد کو انتخابی میدان میں نہ اتاریں بلکہ شفاف کردار کے حامل امیدواروں کا انتخاب کیا جائے ۔ شائد ہی کوئی سیاسی جماعت ایسی ہو جس کے قائدین کے خلاف انتہائی سنگین نوعیت کے مقدمات درج نہیں ہیں ۔ ان تمام کو اپنی اپنی جماعتوں کی جانب سے باضابطہ ٹکٹ دیا جاتا ہے اور اسمبلی یا پارلیمنٹ بھیجا جاتا ہے ۔ ایسے مجرمانہ پس منظر کے حامل افراد پھر اسمبلی یا پارلیمنٹ کیلئے منتخب ہوجانے کے بعد جرائم کی دنیا میں زیادہ وزن کے حامل ہوجاتے ہیں۔ ان کا حلقہ اثر بڑھ جاتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے اس تعلق سے ریمارک کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں اس مسئلہ پر خواب غفلت میں ہیں اور انہیںجاگنے کی ضرورت ہے ۔ سپریم کورٹ نے نو سیاسی جماعتوں پر آج جرمانہ عائد کیا ہے ۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈز عوام میں پیش نہیں کئے تھے ۔ عدالت نے ان جماعتوں کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان پر جرمانہ بھی عائد کیا ۔ کانگریس ‘ بی جے پی اور دیگر پانچ جماعتوں پر فی کس ایک لاکھ روپئے اور سی پی ایم و این سی پی پر فی کس پانچ لاکھ روپئے جرمانہ عائد کیا گیا کیونکہ انہوں نے حالیہ بہار اسمبلی انتخابات میں اپنے امیدواروں کے مجرمانہ پس منظر کو عوام سے چھپایا تھا ۔ عدالت کا یہ ریمارک تھا کہ اس مسئلہ پر تمام جماعتیں خواب غفلت میں ہیں اور انہیں جاگنا چاہئے ۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ بارہا اپیلوں کے باوجود سیاسی جماعتیں خواب غفلت سے بیدار ہونے سے گریز کر رہی ہیں۔ تاہم اب سیاسی قانون سازوں کو جلد ہی خواب غفلت سے بیدار ہونا پڑیگا اور بڑی تبدیلیوں پر غور کرنا ہوگا ۔ سپریم کورٹ کے ججس جسٹس آر ایف نریمان اور جسٹس بی آر گاوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی بارہا اپیلوں پر کوئی اثر نہیںہوا ہے ۔ حالانکہ ہم بہت جلد کچھ کرنا چاہتے ہیں تاہم ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ہم مقننہ کے دائرہ میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے ۔ عدالت نے سیاسی جماعتوں کو انتباہ دیا کہ مستقبل میں انہیں اپنی ویب سائیٹس پر اپنے امیدواروں کے مجرمانہ پس منظر اور سارے ریکارڈ کو پیش کرنا ہوگا ۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو سنگین کارروائی ہوگی ۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے بھی کہا کہ وہ ووٹرس تک بآسانی ایسی اطلاعات پہونچانے کیلئے ایک ایپ تیار کرے ۔ عدالتوں کی جانب سے پہلے بھی سیاسی جماعتوں سے کہا گیا تھا کہ وہ سیاست کو جرائم سے پاک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاہم ایسا لگتا ہے کہ تمام ہی سیاسی جماعتیں جرائم پیشہ افراد کی مدد سے ہی اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ان کی طاقت کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ اس سے ہندوستان کی جمہوریت کھوکھلی ہو رہی ہے ۔ ملک میں عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افراد کو انتخابات سے خوفزدہ کردیا گیا ہے اور صرف غنڈہ عناصر یا پھر انتہائی دولت مند افراد ہی انتخابات کا کھیل کھیلنے میںلگے ہیں۔ یہ ہماری جمہوریت کیلئے خطرہ ہے ۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ منظم ریاکٹس بنے ہوئے ہیں جو انتخابات کے موقع پر اچانک ہی سرگرم ہوجاتے ہیں اور ووٹرس کو تک بھی دھمکایا جاتا ہے ۔ پیسے اور طاقت کے بل پر انتخابات جیتنے والوں سے ملک یا قوم کی ترقی میں سرگرم رول کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ کئی مقامات پر تو عوام کے ووٹ چھین لئے جاتے ہیں۔ انہیں اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے کا موقع تک نہیں دیا جاتا۔ سیاسی جماعتوں کا اس معاملہ میں مکمل دوہرا کردار ہے ۔ اب کم از کم تمام جماعتوں کو یہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مجرمانہ ریکارڈ کے حامل افراد کو ٹکٹ نہیںدینگے ۔ ہندوستان کی جمہوریت کو بچانے کیلئے ہر جماعت کو ایسا کرنے کیلئے آگے آنا چاہئے ۔ عوام کو بھی اس معاملے میں اپنا رول ادا کرنا ہوگا اور ایسی جماعتوں اور امیدواروں دونوں کو مسترد کردینا چاہئے ۔
