مجلس نے بی آر ایس حکومت سے پرانے شہر کیلئے ایک بھی پراجکٹ حاصل نہیں کیا

   

کانگریس ترجمان نظام الدین کا الزام ، پرانے شہر میں کانگریس کی مقبولیت میں اضافہ
حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری(سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی نے الزام عائد کیا کہ پرانے شہر میں کانگریس کی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار مجلسی قیادت نے بی جے پی سے مسلمانوں کو ڈرانے کی سیاست شروع کردی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پردیش کانگریس کے ترجمان سید نظام الدین نے کہا کہ اسمبلی الیکشن کے بعد حیدرآباد اور بالخصوص پرانے شہر میں کانگریس کا موقف مستحکم ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجلس نے ہمیشہ بی جے پی کا خوف دلاکر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کئے ہیں۔ اب جبکہ لوک سبھا الیکشن قریب ہیں مجلسی قیادت نے بی جے پی کے ساتھ مل کر فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر عمل آوری شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کی ترقی کو یکسر نظر انداز کردیا گیا۔ گزشتہ 20 برسوں کے دوران مجلس نے ہمیشہ برسر اقتدار پارٹیوں کے حلیف ہونے کا ڈھونگ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2004 تک مجلس تلگو دیشم کے ساتھ رہی اور 2011 تک کانگریس کی تائید کی گئی۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مجلس نے بی آر ایس کی حلیف جماعت کا رول ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کی ترقی کیلئے مجلس نے ایک بھی اہم پراجکٹ حاصل نہیں کیا ہے ۔ سید نظام الدین نے کہا کہ چنچل گوڑہ جیل اور ریس کورس منتقل کرتے ہوئے اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔ مجلس نے گزشتہ 9 برسوں میں 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کیلئے کے سی آر حکومت سے کوئی سوال نہیں کیا۔ کانگریس ترجمان کا کہنا ہے کہ گریٹر حیدرآباد اور خاص طور پر پرانے شہر میں کانگریس پارٹی مستحکم ہوئی ہے۔ کانگریس پارٹی حلقہ لوک سبھا حیدرآباد میں پوری شدت کے ساتھ الیکشن لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے موسیٰ ندی کی ترقی کیلئے ایک ہزار کروڑ مختص کئے ہیں جبکہ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کا عنقریب آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا چناؤ میں حیدرآباد اور سکندرآباد دونوں پارلیمانی حلقوں پر کانگریس کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور مجلس ہمیشہ فرقہ وارانہ سیاست کیلئے مشہور ہیں۔ 1