غیر ضروری رسم و رواج سے اجتناب کی خواہش، بشریٰ بتول صدر معلمہ تعلیم البنات محبوب نگر کا تاثر
محبوب نگر ۔ مسلمانوں کی باقاعدہ تاریخ کا آغاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے ہوا۔ اس سے قبل مسلمان سنہ نبوت یا آنحضرت صلعم کے آخری حج وغیرہ سے تاریخ کا حساب کیا کرتے تھے، باقاعدہ سنہ مقرر نہیں تھا ، اسلامی سال کا باقاعدہ تعین 17ھ میں حضرت عمر ؓ کے عہد خلافت میں ہوا۔ اسلامی سال اسی ماہ سے شروع ہوکر ذی الحجہ پر ختم ہوتا ہے۔ ماہ محرم اپنی فضیلت ، عظمت، حرمت و برکت ، مقام و مرتبہ کے لحاظ سے انفرادی خصوصیت کا حامل ہے۔ آنحضرت صلعم کے اس ماہ میں خصوصی اعمال اس کی عظمت کو چار چاند لگادیتے ہیں۔ان تاثرات کا اظہار محترمہ بشریٰ بتول صدر معلمہ تعلیم البنات محبوب نگر نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا افضل ترین روزہ ماہ رمضان المبارک کے بعد ماہ محرم کا ہے اور افضل ترین نماز فرض نمازوں کے بعد تہجد کی نماز ہے۔ بعض لوگ اس ماہ کو غم کا مہینہ سمجھتے ہیں اور خصوصاً دس دنوں میں شادی بیاہ خوشی کی تقریبات نہیں کرتے جبکہ شریعت میں ایسی کوئی بات نہیں۔ شریعت اسلامیہ نے محرم یا کسی دوسرے مہینہ میں نکاح سے منع نہیں کیا ۔ اس ماہ میں زیادہ عبادت کرنے کا حکم دیا اور نکاح بھی ایک عبادت ہے کیونکہ نکاح سے اللہ کا قرب اور تقویٰ نصیب ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے جب آدمی نکاح کرتا ہے تو اس کا آدھا دین مکمل ہوجاتا ہے تو اس کو چاہیئے کہ باقی آدھے کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ لہذا اس ماہ میں نکاح کرنا ممنوع نہیں۔ دن اور رات آتے ہیں اور گذر جاتے ہیں ان ہی اوقات میں سکنڈ ، منٹوں میں اور منٹ گھٹوں میں ، یہ دن کے رات کے تسلسل سے ہفتے مہینوں میں، اور مہینے سالوں میں، سال صدیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہ دن رات کا انتظام اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تحت ہے۔ یہی زمانہ اور اسی کا نام وقت ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اس شب و روز کی دوڑ میں ہم کن کاموں میں لگے ہیں : ’’ صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے، عمر تما م یونہی ہوتی ہے‘‘۔ ایک دن ہم بھی اس دنیا سے کوچ کریں گے اور وہ سفر اتنا طویل ہوگا کہ وہاں سے واپسی نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اکثر لوگ اللہ پاک کی دو نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں ایک نعمت صحت دوسری فراغ وقت ‘‘۔ ( مشکوٰۃ ) ۔ ہم پورے سال کا جائزہ لینے والے بنیں۔ گذشتہ سال نمازوں کا کتنا اہتمام اور قرآن پاک کی تلاوت کا کتنا ورد ہوا وغیرہ۔ غرض جتنے اعمال صالحہ اللہ پاک کی توفیق سے ادا کئے اس پر اللہ تعالیٰ کا دل سے شکرادا کریں۔ اس سال کی پوری قدر دانی کریں۔ اس گردش لیل و نہار سے ہمیں عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اسلامی کیلنڈر کے اعتبار سے اب ہم 1443 ھ میں داخل ہوئے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ نئے سال کو ہم سب اور تمام امت مسلمہ کے حق میں مبارک فرمائے۔ خیر و برکت ، امن و سلامتی اس کی رضاوالے کام میں مشغول ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔ ( آمین )
