حیدرآباد۔29اگسٹ(سیاست نیوز) محرم کے انتظامات پر طلب کردہ اجلاس میں مسائل سے آگہی کے بغیر صرف فیصلوں سے واقف کروایا جانا درست نہیں ہے۔ عاشور خانہ یا عزاء خانہ صرف شہر حیدرآباد میں ہی نہیں ہیںبلکہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی عاشور خانہ موجود ہیں جن کی حفاظت اور تزئین کے کاموں کو انجام دینے کے سلسلہ میں عوامی نمائندوں سے تجاویز حاصل کئے جانے کی ضرورت ہے۔ جناب محمد فاروق حسین رکن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے محرم کے انتظامات کے سلسلہ میں طلب کردہ اجلاس کے طریقہ کار پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے طلب کئے گئے اجلاس میں پہلے مسائل سے واقفیت کے بعد ان کے حل کے سلسلہ میں اقدامات کا اعلان کیا جانا چاہئے۔ جناب محمد فاروق حسین نے اجلاس طلب کرنے کے طریقہ اور چند گھنٹوں قبل مطلع کئے جانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ اس طرح کے اجلاس سے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔رکن قانون ساز کونسل کی جانب سے عاشور خانوں کے تحفظ اور شیعہ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لئے آواز اٹھائے جانے پر شیعہ تنظیموں کے نمائندوں اور ذمہ دارو ں نے ان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں موجود عاشور خانوں کی حالت زار کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ ریاستی وزراء کے اجلاس سے روانہ ہوجانے کے بعد جناب محمد فاروق حسین بھی اجلاس سے روانہ ہوگئے۔
