شاہی مسجد باغ عامہ میں مولانا ڈاکٹر احسن الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 16 ستمبر (پریس نوٹ) اللہ تعالی اس کائنات کا خالق، مدبر اور کارساز ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا تو بے بس اور مجبور پیدا کیا، جب انسان جوان ہوتا ہے تو اس کو طاقت و توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح بوڈھاپے میں طاقت ختم ہو جاتی ہے۔ ایک فرد کی طرح قوموں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ قومیں افکار و نظریات، تہذیب و عقیدہ، ملک و مذہب کی بنیاد پر وجود میں آتی ہیں۔ ہر قوم ابتدا میں کمزور رہی پھر اسے عروج حاصل ہوا، اس کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر وہ قوم زوال پذیر ہوگئی۔ اللہ تعالی نے ہر قوم میں انبیا کرام کو مبعوث کیا۔ وہ قوم ایک مخصوص مدت تک نمایاں رہی لیکن اللہ رب العزت نے حضرت محمدؐ کی امت کو قیامت تک کے لیے منتخب کیا۔ جو کہ پوری دنیا کی قیادت کرے گی۔ جو اسباب قوموں کے زوال کا سبب بن سکتے ہیں؛ وہ امت مسلمہ پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے انسانوں کے ساتھ قوموں کی بھی تقدیر لکھا ہے۔ امت مسلمہ کے زوال کا بڑا سبب پیغمبر انسانیت حضرت محمدؐ سے دوری اور بے اعتنائی ہے۔ اللہ تعالی نے امت مسلمہ کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ جس دور میں رسول اللہؐ سے جتنا زیادہ تعلق ہوگا، اتنی ہی ترقی اور عروج حاصل ہوگا۔ اگر زندگی کے ہر شعبہ میں رسول اللہؐ سے وابستگی اور رشتہ ختم ہوگا تو امت کے زوال و انتشار کا سبب بنے گا۔ کلمہ توحید ’’لاالہ اللہ محمد رسول اللہ‘‘ امتیای شان کا حامل ہے۔ یہ کلمہ وفاداری و بے وفائی کا فرق پیدا کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار شاہی مسجد باغ عامہ میں مولانا ڈاکٹر احسن الحمومی نے جمعہ کے خطبہ کے دوران کیا۔مولانا ڈاکر احسن الحمومی نے کہا کہ پہلے ماہ ربیع الاول کے موقع پر لوگوں میں خوشیوں کا ماحول ہوتا تھا، گھروں میں سیرت النبی ﷺ کو پڑھنے کا شوق بڑھ جاتا تھا اور محافل سیرت منعقد کر کے حضور اکرامؐ کا ذکر کیا جاتا تھا۔ ہر جگہ ذکرِ محبوب سے مجلسیں پرنور ہوتی، لیکن اب امت مسلمہ کو مسائل میں الجھا کر رکھا گیا ہے۔ مولانا احسن نے کہا کہ سیرت النبیؐ میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔ آج ان مسائل کے باوجود امت مسلمہ کے افراد بے حس نظر آتے ہیں لیکن محلہ واری سطح پر ایک ’’پریشر گروپ‘‘ ہونا چاہیے۔ جس میں علما، شریف سرمایہ دار اور بااثر لوگ شامل ہوں۔ یہ گروپ محلہ واری سطح پر مسائل کو حل کرے۔ پورے محلہ کو ان کا لحاظ اور ڈر ہو۔ اسی طرح حضور اکرمؐ نے حلف الفضول نامی ایک معاہدہ کیا تھا، جس میں خود حضورؐ بھی شامل تھے۔ الفضول گروپ کے تحت لوگوں کو ان کے حقوق دلائے جاتے، لوگوں کے درمیان صلح صفائی کی جاتی۔ آج بھی محلہ واری سطح پر تعلیم کو عام کرنے اور مسائل کو حل کرنے کے لیے ایسے مضبوط پریشر گروپ کی ہر محلہ میں ضرورت ہے۔