محمدؐ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا

   

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللہُ عنهما قَالَ: أَوْحَي اللہُ إِلىٰ عِيْسىٰ عليه السلام، يَا عِيْسىٰ! آمِنْ بِمُحَمَّدٍ وَأْمُرْ مَنْ أَدْرَکَهٗ مِنْ أُمَّتِکَ أَنْ يُؤْمِنُوْا بِهٖ فَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ آدَمَ وَلَولَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ. وَلَقَدْ خَلَقْتُ الْعَرْشَ عَلىٰ الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ فَکَتَبْتُ عَلَيْهِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللہِ فَسَکَنَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.وَقَالَ الْحَاکِمُ:
هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ وَ وَافَقَهُ الذَّهَبِيُّ.
’’حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی: اے عیسیٰ! حضرت محمد (ﷺ) پر ایمان لے آؤ اور اپنی اُمت کو بھی حکم دو کہ جو بھی ان کا زمانہ پائے تو (ضرور) ان پر ایمان لائے (جان لو!) اگر محمد (ﷺ) نہ ہوتے تو میں حضرت آدم علیہ السلام کو بھی پیدا نہ کرتا۔ اور اگر محمد مصطفیٰ (ﷺ) نہ ہوتے تو میں نہ جنت پیدا کرتا اور نہ دوزخ، جب میں نے پانی پر عرش بنایا تو اس میں لرزش پیدا ہو گئی، لہٰذا میں نے اس پر ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللہِ ‘‘ لکھ دیا تو وہ ٹھہر گیا۔‘‘