تشکیل تلنگانہ کے بعد کے سی آر نے سونیا گاندھی کو دھوکہ دیا، 6 ضمانتوں پر عمل کا بھروسہ، میدک اور سنگاریڈی میں بس یاترا
حیدرآباد۔/29 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے بی آر ایس کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیاں ملکر تلنگانہ میں کانگریس کی کامیابی کو روکنا چاہتی ہیں جبکہ ان پارٹیوں کا ملک کی جدوجہد آزادی اور ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کانگریس کی وجئے بھیری بس یاترا کے دوسرے دن ملکارجن کھرگے نے آج سنگاریڈی اور میدک میں عام جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو بھروسہ دلایا کہ کانگریس پارٹی برسراقتدار آنے پر 6 ضمانتوں پر بہر صورت عمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی کو کانگریس پر تنقید کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ آزادی کی جدوجہد اور پھر آزادی کے بعد 70 سال تک عوام کی خدمت کرنے والی کانگریس پارٹی سے نوزائدہ پارٹیاں سوال کررہی ہیں۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ بی جے پی اور بی آر ایس کا حال اس محاورہ کی طرح ہے کہ ’’ محنت کرے مرغ صاحب اور انڈا کھائے فقیر صاحب‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے بی جے پی کی بی ٹیم ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کی تشکیل کے بعد کے سی آر پر کانگریس کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ سونیا گاندھی نے تلنگانہ ریاست تشکیکل دی اور عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے کانگریس کو سیاسی نقصان کی پرواہ نہیں کی۔ بی آر ایس اور اس کے قائدین نے سونیا گاندھی کو دھوکہ دیا۔ کے سی آر سونیا گاندھی کے گھر گئے پیر چھوئے اور تصویر لی لیکن دوسرے دن ہی وہ اپنی بات سے مُکر گئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو تلنگانہ عوام کی نہیں بلکہ صرف اقتدار کی فکر تھی۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ کانگریس پارٹی کسی سے ڈرنے والی نہیں ہے اور عوامی مسائل پر جدوجہد جاری رہے گی۔ ( باقی سلسلہ صفحہ 2 پر )