محکمہ آبی وسائل میں 945 اضافی جائیدادوں کو منظوری

   

Ferty9 Clinic


محکمہ کی تنظیم جدید اور کام کاج کو موثر بنانے کی ہدایت ۔ چیف منسٹر کے سی آر کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔ ریاستی حکومت نے محکمہ آبی وسائل میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے اس کو زیادہ متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے آبپاشی شعبہ میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کیا جائیگا ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے محکمہ کی تشکیل جدید کے عمل اور کام کاج کو قطعیت دی ہے اور انہوں نے بڑی ‘ اوسط اور چھوٹی آبپاشی ڈویژنوں کو ایک ہی چھت تلے جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تمام آبی وسائل بشمول پراجیکٹس ‘ ذخائر آب کنالس اور تالاب جو ایک علاقے میں واقع ہوں وہ ایک چیف انجینئر کی نگرانی میں ایک یونٹ کے طورپر کام کریں گے ۔ چیف منسٹر نے محکمہ آبی وسائل کے عہدیداروں کے ساتھ پرگتی بھون میں ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ انجینئرس ان چیف کی تعداد کو تین سے بڑھا کر چھ کردیا جائے اور انہیں جنرل اڈمنسٹریشن و آپریشن اور مینٹیننس کی مخصوص ذمہ داریاں تفویض کی جائیں۔ اس کے علاوہ تین سینئر عہدیداروں کو ای این سی کیڈر میں ذمہ داریاں دی جائیں گی ۔ علاقائی حدود کو موجودہ 13 سے بڑھاکر 19 کردیا گیا ہے اورہر علاقہ میں ایک چیف انجینئر ہوگا ۔ جو 19 آبی وسائل حدود کا تعین کیا گیا ہے ان میں عادل آباد ‘ منچریال ‘ نظام آباد ‘ کاماریڈی ‘ جگتیال ‘ کریمنگر ‘ راماگنڈم ‘ ورنگل ‘ ملگ ‘ سنگاریڈی ‘ گجویل ‘ نلگنڈہ ‘ سوریہ پیٹ ‘ ونپرتی ‘ محبوب نگر ‘ ناگرکرنول ‘ حیدرآباد ‘ کتہ گوڑز اور کھمم شامل ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت نے آبی وسائل محکمہ میں مختلف زمروں کی جائیدادیں بھی منظور کی ہیں۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ حکومت نے محکمہ آبی وسائل میں جملہ 945 اضافی جائیدیدوں کی تشکیل کو منظوری دی ہے اور ان پر تقررات عمل میں لائے جائیں گے ۔ یہ جائیدادیں مختلف زمروں میں اور مختلف عہدوں کی ہونگی ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیر حکومت کے ایجنڈہ میں سرفہرست ہے چندر شیکھر راو نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ کچھ لنک پراجیکٹس کو تیزی کے ساتھ مکمل کریں۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ چانکا ۔ کوراٹا بیاریج پمپ ہاوز ‘ کنالس اور دوسرے کاموں کو آئندہ جون تک مکمل کرلیں۔