ایوان میں گمراہ کن بیان ، ارکان اسمبلی کو محکمہ کے خلاف اسپیکر کے ذریعہ کارروائی کا حق
حیدرآباد۔9۔ستمبر۔(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود اپنی ناکامیوں‘ بدعنوانیوں کے علاوہ بے قاعدگیوں کی پردہ پوشی کے لئے ایوان کو گمراہ کرنے سے بھی گریز نہیں کررہا ہے بلکہ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں اٹھائے گئے سوال کے جواب بھی گمراہ کن دیئے جانے لگے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اردو اکیڈیمی کی اراضی کے معاملہ میں ڈپٹی فلور لیڈر بی آر ایس وسابق ریاستی وزیر مسٹر ٹی ہریش راؤ و دیگر اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کا جس انداز میں جواب دیا ہے وہ درحقیقت گمراہ کن ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے دئیے جانے والے جواب میں محکمہ اقلیتی بہبود نے ریاستی اسمبلی میں دیئے گئے جواب میں دعویٰ کیا ہے کہ 5220 مربع گز اراضی کی لیز کسی بھی نجی کمپنی کو نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی معاہدہ کیا گیا ہے۔اسمبلی میں دیئے گئے اپنے ہی جواب میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے11اگسٹ 2026 کو جاری کئے گئے تنیسخ کے احکامات سے متعلق جی او نمبر23کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام معاملات کی تنسیخ کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود نے جی او ایم ایس 23 جاری کردیا ہے۔ اسمبلی میں دیئے گئے جواب میں حکومت کی جانب سے جی او ایم ایس 20 جو کہ 18 جولائی2026 کو جاری کیا گیا تھا اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا بلکہ مذکورہ جی او ایم ایس 20 جس کے ذریعہ 5220 مربع گز اراضی کو نجی کمپنی کے حوالہ کرنے کے احکام جاری کئے گئے تھے اسے’زیر التواء ‘ رکھنے کے لئے جاری کئے گئے جی او ایم ایس 22کا حوالہ بھی نہیں دیا گیا بلکہ محض ’’تنسیخ ‘‘ کے احکام کی تفصیلات فراہم کی گئی۔ اسمبلی میں دریافت کئے گئے سوال کے جواب میں گمراہ کن جواب کے ذریعہ محکمہ اقلیتی بہبودنے ’اردواکیڈیمی‘ کی اس انتہائی قیمتی اراضی سے متعلق کی گئی معاملتوں کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کی اس کوشش کے خلاف اراکین اسمبلی کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود اور محکمہ اقلیتی بہبود کے خلاف اسپیکر اسمبلی کے علاوہ سیکریٹری اسمبلی سے شکایت کرتے ہوئے ایوان کو گمراہ کرنے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ مسٹر ٹی ہریش راؤ نے جو سوال کئے تھے ان میں واضح طور پر یہ دریافت کیا گیا تھا کہ مذکورہ اراضی کو طویل مدتی لیز پر دینے کا کوئی فیصلہ کیاگیا تھا اگر کیا گیا تھا تو اس معاہدہ یا لیز کے قدوخال کیا تھے! تلنگانہ قانون ساز کونسل میں گذشتہ یوم محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے جو تحریری جواب پیش کیا ہے وہ گمراہ کن ہے اور اس کے ثبوت کے طور پر تینوں جی او موجود ہیں۔جن میں اراضی کی حوالگی ‘ زیر التواء رکھنے کے جی او کے علاوہ حوالگی کے احکام کی تنسیخ کا جی او شامل ہے۔3/m/b