محکمہ اقلیتی بہبود میں موظف عہدیداروں سے خدمات کے حصول کی مساعی

   

مختلف ادارہ جات کی نگرانی کے لیے مستقل عہدیدار نظر انداز ، دفاتر میں مخبروں کا راج
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔30۔مئی۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کی کمی کا بہانہ بناتے ہوئے مؤظف عہدیدارو ںکو دوبارہ محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی قلت کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مسلسل نمائندگیوں کے باوجود ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود بالخصوص اقلیتی امور کے نگران ذمہ داروں کی جانب سے اقدامات کے بجائے عارضی انتظامات کے ذریعہ محکمہ کے تحت موجود اداروں کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود ادارہ ٔ جات تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ‘ تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی ‘ تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی ‘ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی نگرانی کے لئے کوئی مستقل عہدیدارموجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں زیر التواء ہیں اوران محکمہ جات کا کوئی پرسان حال نہیں ہے بلکہ جن عہدیداروں کو ان ادارہ ٔ جات کی زائد ذمہ داری تفویض کی گئی وہ اپنے اپنے دفاتر میں بیٹھ کر فرمان جاری کررہے ہیں اور انہیں ان ادارۂ جات کے دفتر میں ہونے والی سرگرمیوں کو علم تک نہیں ہے بلکہ وہ بھی اپنے مخبروں کے ذریعہ پولیس کی طرح کام چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے چیف ایکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر مستقل عہدیدارکی عدم موجودگی وقف بورڈ کے حالات کو بہتر بنانے میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ سی ای او کے عہدہ کے لئے درکار عہدیدار کی عدم موجودگی کے سبب کسی مستقل عہدیدار کا تقررعمل میں نہیں لایا جا رہاہے جبکہ اگر حکومت چاہے تو مسلم عہدیدار جو ترقی کی فہرست میں شامل ہیں انہیں اڈہاک ترقی فراہم کرتے ہوئے اس عہدہ کی مستقل ذمہ داری تفویض کرسکتی ہے ۔ اسی طرح تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی اور تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے لئے بھی مستقل عہدیداروں کی موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر و نائب صدرنشین کے عہدہ کی زائد ذمہ داری بھی عرصہ دراز سے کرسچن اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے نائب صدرنشین کے پاس ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے ادارۂ جات میں مؤظف عہدیدارو ںکو لانے کے بجائے حکومت کے مختلف محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کو اڈہاک ترقیات کی فراہمی کے ذریعہ کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات کرسکتی ہے لیکن بعض گوشوں کی جانب سے حکومت بالخصوص چیف منسٹر اور وزیر داخلہ کے دفتر کو یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے کے لئے کوئی اہل امیدوار موجود نہیں ہے ۔ اس طرح کی کوشش کرنے والے دراصل تمام ادارۂ جات میں اپنے من پسند عہدیداروں کے ذریعہ اپنی اجارہ داری چلانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی ان کوششوں کے سبب ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود تمام ادارۂ جات کی کارکردگی بری طرح سے متاثر ہونے لگی ہے اور منتخبہ مسلم عوامی نمائندوں کو بھی اس بات کا شدت سے احساس ہورہا ہے کہ ریاست میں محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی بری طرح سے متاثر ہوچکی ہے۔