مدھیہ پردیش میں گروپ بندیاںبھی آشکار ۔ سینئر قائدین اور حامیوں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیاں
حیدرآباد ۔ 22 اکٹوبر (سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی داخلی اختلافات کا شکار ہوگئی ہے؟ یہ ایسا سوال ہے جو بی جے پی قائدین کی الجھنوں میں اضافہ کا سبب بنا ہوا ہے۔ شمالی ہند کی ریاستوں میں روایتی فرقہ پرستی اور نفرت انگیز بیانات کے ذریعہ اپنا مضبوط موقف ثابت کرنے والی بی جے پی میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیاں اب نفرت اور گروپ بندیوں کی بنیاد بن گئی ہیں۔ ایک عرصہ سے مدھیہ پردیش پر قابض بی جے پی نے اقتدار کو عوام فیصلے سے نہیں بلکہ اپنی سازشوں سے حاصل کیا اور مخالفین کی آپسی چپقلش کا فائدہ اٹھاکر اقتدار پر قابض ہوگئی لیکن اقتدار کے نشہ میں چور بی جے پی میں اب داخلی انتشار و اختلافات منظرعام پر آنے لگے ہیں اور ناراض قائدین جن کے خالف پارٹی ہائی کمان نے کارروائی کی ہے اب وہ کھل کر پارٹی فیصلوں کی مخالفت کرنے لگے ہیں۔ ایسا اس پارٹی میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیںآیا۔ مدھیہ پردیش بی جے پی کے رکن اسمبلی راج کمار سنگھ دھنوا کے خلاف بی جے پی ہائی کمان نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں 6 سال تک پارٹی سے معطل کردیا۔ پارٹی کے ایک سینئر قائد و ریاستی وزیر گوند سنگھ راجپوت کے خلاف ریمارکس اور مخالفت پر دھنوا کے خلاف کارروائی کی گئی۔ کارروائی کے بعد دھنوا نے پارٹی صدارت پر تنقید کرتے ہوئے سابقہ واقعات کا حوالہ دیا اور امابھارتی اور کیلاش وجے ورگیہ کا حوالہ دیا۔ ان حالات سے اب بی جے پی میں آپسی مخالفت منظر عام پر آنے لگی ہے اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی بہ مقابلہ بی جے پی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ 8 سالہ اقتدار کے نشہ میں چور بی جے پی شائد اپنی گرفت کھوچکی ہے اور اقتدار سنبھالنے میں ناکام ہورہی ہے جس کے سبب اب پارٹی کی کمان کو سنبھالنا بی ہائی کمان کیلئے مشکل ہوگیا ہے اور یکے بعد دیگر ریاستوں میں داخلی اختلافات منظرعام پر آنے لگے ہیں۔ شمالی ہند کی کچھ اور ریاستوں میں بھی کچھ اس طرح کے حالات پیدا ہو رہیہیں اور ذراسے سیاسی حالات کو بدلنے کا پارٹی قائدین انتظار کررہے ہیں۔ مسلسل تین مرتبہ حکومت بنانے کے بعد موجودہ بی جے پی حکومت نے کانگریس اختلافات کا فائدہ اٹھا کر سیاسی سازش سے حکومت حاصل کی جو اب ان کے قابو میں دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ مدھیہ پردیش کے بعد اب مہاراشٹرا کے حالات پر بھی تبصرے شروع ہوچکے ہیں چونکہ یہاں شیوسینا کے باغیوں کو اہمیت پارٹی قائدین میں ناراضگی کا سبب بن رہی ہے اور این ڈی اے حمایتی جماعتیں بھی اب اپنی سیاسی صف بندی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کررہی ہیں۔ بی جے پی کے داخلی اختلافات ملک کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس سے فائدہ اٹھانے ریاستوں میں بی جے پی کی مخالف جماعتیں حکمت عملی تیار کررہی ہیں۔ جنوبی ہند میں جلوہ دکھانے بے تاب بی جے پی کیلئے شاہد جنوبی ہند کا سیاسی حملہ مہنگا ثابت ہوگا۔ع