n انخلاء کرنے والوں میں ہند و پاک کے شہری بھی شامل n 15اپریل سے شروع ہوئی لڑائی کے خاتمہ کے کوئی آثار نہیں
امریکی صدر جو بائیڈن کا یہ بھی کہنا ہے کہ سوڈان میں جاری پْرتشدد کشیدگی میں سینکڑوں معصوم شہریوں کی جان جا چکی ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے سوڈان میں سفارتی آپریشن عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔سوڈان میں فوج اور پیرا ملٹری فورس کی لڑائی کا دوسرا ہفتہ شروع ہو چکا ہے جہاں سے غیر ملکی شہریوں کے انخلاء کا عمل بھی جاری ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سوڈان سے مختلف ممالک کے 150 سے زائد افراد سعودی عرب پہنچ گئے، سفارت کاروں، عالمی حکام اور عام شہریوں کو سعودی بحریہ نے جدہ پہنچایا۔ان افراد میں کویت، قطر، عرب امارات،مصر، تیونس، پاکستان اور ہندوستانی کے شہری بھی شامل ہیں۔بلغاریہ، بنگلہ دیشن، فلپائن، کینیڈا اور برکینا فاسو کے شہری بھی سوڈان سے انخلاء کرنے والوں میں شامل ہیں۔کئی ممالک کی جانب سے اپنے ہزاروں شہریوں کو سوڈان سے نکالنے کی تیاریاں جاری ہیں۔غیر ملکی شہریوں کو ایئر لفٹ کرنے کا منصوبہبھی ہے،امریکہ نے اپنے سفارتی عملے کے انخلاء کا عمل تو مکمل کر لیا ہے تاہم اب امریکہ، برطانیہ، فرانس اور چین کی جانب سے اپنے شہریوں کو خرطوم ایئر پورٹ سے ایئر لفٹ کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔امریکہ ؤ جنوبی کوریا اور جاپان کی جانب سے سوڈان کے قریبی ممالک میں فورسز کی تعیناتی کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔یورپی یونین بھی سوڈان کے پڑوسی ممالک میں فورسز تعینات کر نے پر غور کر رہی ہے۔ادھر جرمنی میں دفاع اور خارجہ امور کے وزیروں کے اجلاس میں سوڈان سے اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کے ممکنہ انخلاء پر غور کیا گیا۔سوڈانی فوج کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ کئی ممالک کے قائدین نے سوڈانی آرمی چیف عبدالفتاح البرہان سے رابطہ کیا ہے اور اپنے سفارتی مشنز اور عام شہریوں کے محفوظ انخلاء اور سہولت کو یقینی بنانے کا کہا ہے۔سوڈانی فوج کے مطابق ملک سے بڑے پیمانے پر انخلاء کا عمل اگلے چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سوڈان کا مرکزی ایئر پورٹ لڑائی کے باعث بند ہے۔سوڈانی آرمی چیف عبدالفتاح البرہان کا کہنا ہے کہ خرطوم اور نایالہ کے علاوہ دیگر تمام ایئر پورٹس فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ادھر سوڈان کی فوج سے لڑنے والی پیرا ملٹری فورس کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کے انخلاء کے لیے تمام ایئر پورٹس عارضی طور پر کھولنے کو تیار ہیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی نے بتایا ہے کہ عیدالفطر کے پہلے روز عارضی جنگ بندی کے بعد خرطوم میں لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔سوڈان میں فوج اور پیرا ملٹری فورسز کی لڑائی 15 اپریل کو شروع ہوئی تھی۔