مدارس کی بلڈوزنگ روکنے یو ڈی ایف کی اپیل

   

گوہاٹی: آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے سپریمو اور لوک سبھا کے رکن بدرالدین اجمل نے جمعرات کو چیف منسٹر ہمنتا بسوا سرما پر زور دیا کہ وہ مدارس کو بلڈوزکرنا بند کریں۔ اجمل کی چیف منسٹر سے درخواست اس وقت سامنے آئی جب بونگائیگاؤں ضلع انتظامیہ نے چہارشنبہ کو جوگیگھوپا علاقے کے کبیتاری میں واقع مرکز المعارف کریانہ مدرسہ کو مہندم کر دیا، جو کہ ایک خانگی مدرسہ ہے اور اسے دہشت گردی کی مبینہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں منہدم کیا گیا ہے ۔ اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ نے میڈیا کو بتایا اس طرح کے اقدامات آسام کے اقلیتی اکثریتی علاقوں میں بچوں کی تعلیم پر براہ راست حملہ ہیں۔ مدارس عوامی املاک ہیں اور انہیں بغیرکسی پیشگی قانونی نوٹس کے منہدم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے بلڈوزر کا استعمال بندکر دیا ہے، اجمل نے آسام کے چیف منسٹر پر زور دیا کہ وہ ایسے غیر اخلاقی منصوبوں کو روکیں۔ مدارس کو بلڈوز کرنے کے منصوبے کے لیے آر ایس ایس پر الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا اگر کسی شخص کو جہادی تنظیموں یا کسی بھی قسم کی ملک دشمن سرگرمیوں سے تعلق کے الزام میں گرفتارکیا جاتا ہے، تو حکومت ایسے شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی شروع کر سکتی ہے۔ مدارس کبھی بھی نفرت یا فرقہ پرستی کی تعلیم نہیں دیتے اور انہیں منہدم کرنا غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ مدرسہ کو مسمار کرنا خاص طور پر مسلم بچوں کے بچوں کی تعلیم سے روکنا ہے۔ 126 رکنی آسام اسمبلی میں اے آئی یو ڈی ایف کے 15 ایم ایل اے ہیں۔ بونگائیگاؤں کے مدرسے کو منہدم کرنے کے ساتھ ہی، آسام حکومت نے برصغیر پاک و ہند میں القاعدہ اور بنگلہ دیش میں قائم دہشت گرد تنظیم انصارالبنگلہ ٹیم کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں ایک ماہ سے کم عرصے میں 37 افراد کی گرفتاری کے بعد تین مدارس کو بلڈوزکردیا ہے ۔ بونگائیگاؤں انتظامیہ نے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تشخیص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکز المعارف قریانہ مدرسہ غیر محفوظ تھا اور مناسب دستاویزات کے بغیر متعدد سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور اس نے مکینوں کو 24 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا تھا تاکہ وہ مدرسہ خالی کرسکیں۔ قبل ازیں 26 اگست کو پولیس نے مفتی حفیظ الرحمن کو جو 2018 سے مدرسے میں استاد تھے کوگولپارہ ضلع سے گرفتار کیا ۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ رحمن کا تعلق جہادی تنظیم سے ہے۔ حال ہی میں، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے بنیاد پرست تنظیموں کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار37 میں سے آٹھ کے خلاف چارج شیٹ دائرکی۔ آٹھ میں سے سات کا تعلق مغربی آسام کے بارپیٹا ضلع سے ہے اور ایک تریپورہ سے ہے۔ آسام حکومت نے ابتدائی تحقیقات کے بعد جہادی دہشت گردی کے ماڈیولز کے معاملات کو این آئی اے کے حوالے کر دیا تھا۔ آسام کے چیف منسٹر نے حال ہی میں کہا تھا کہ حکومت اب باہر سے ریاست آنے والے نئے امام کے لیے معیاری آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) تیارکر رہی ہے۔