سیاسی بحران کو حل کرنے سپریم کورٹ کی تجویز قبول نہیں: پرجاپتی۔ بنگلور کو مبصرین کی ٹیم روانہ کرنے کی بھی پیشکش
نئی دہلی 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج تجویز پیش کی کہ مدھیہ پردیش اسمبلی اسپیکر این پی پرجاپتی کو چاہئے کہ وہ ویڈیو رابطہ کے ذریعہ کانگریس کے باغی ارکان اسمبلی کے ساتھ بات چیت کریں یا عدالت کی جانب سے مبصرین کی ٹیم مقرر کرکے ارکان اسمبلی کے خوف کو دور کیا جاسکتا ہے۔ ان ارکان اسمبلی کو اس وقت بنگلور میں محروس رکھا گیا ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندر چور اور ہیمنت گپتا پر مشتمل بنچ نے کہاکہ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ شرائط بھی رکھے جاسکتے ہیں کہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ اسپیکر کے ساتھ رابطہ قائم کیا جائے۔ اس کے بعد ہی اسپیکر کچھ فیصلہ کرسکتے ہیں۔ بنچ نے مزید کہاکہ بنچ ایسی شرط بھی رکھ سکتا ہے تاکہ باغی ارکان اسمبلی مکمل رضاکارانہ طور پر آگے آئیں ورنہ ان کی کوئی بھی حرکت قانون کے مغائر سمجھی جائے گی۔ بنچ نے اسپیکر سے یہ بھی پوچھا کہ آیا کوئی انکوائری کی گئی ہے۔ باغی ارکان اسمبلی کے استعفیٰ پر کسی قسم کی جانچ ہوتی ہے اور وقت کیا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ اے ایم سنگھوی نے اسپیکر کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے کہاکہ دن کا آغاز عدالت کی جانب سے اسپیکر کو ہدایت دی گئی ہے کہ کہ وہ وقت مقررہ پر کام کرلیں۔ اس طرح کی ہدایت سے دستوری مسائل پیدا ہوں گے۔ گورنر لال جی ٹنڈن کی جانب سے حاضر ہوتے ہوئے وکیل نے بنچ سے کہاکہ چیف منسٹر مدھیہ پردیش کمل ناتھ اس مسئلہ کو ’’یکسر کنارہ‘‘ پر رکھا ہے۔ عدالت میں اس سیاسی جنگ کیلئے اسپیکر ہی ذمہ دار ہیں۔ بنچ نے تمام پارٹیوں سے کہاکہ آخر وہ ایوان میں آزمائش کے لئے ارکان اسمبلی کے استعفیٰ اور انھیں نااہل قرار دینے کے معاملہ میں کس طرح نمٹیں گے۔ اس نے کہاکہ دستوری اُصول اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ارکان اسمبلی کے استعفیٰ یا انھیں نااہل قرار دینے کے باعث اعتماد کے ووٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سپریم کورٹ بنچ میں سماعت کے دوران کہا گیا کہ اگر حکومت اکثریت سے محروم ہوتی ہے تو اور اس وقت اسمبلی سیشن نہیں ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں گورنر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اسپیکر کو ہدایت دے کر اسمبلی سیشن طلب کریں۔ سینئر ایڈوکیٹ سنگھوی نے کہاکہ گورنر کے اختیارات محدود ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ کوئی کارروائی نہیں کرسکتے۔ اسمبلی کی کارروائی کے لئے گورنر اپنا اختیار استعمال نہیں کرسکتے البتہ وہ اسپیکر کو ہدایت دے سکتے ہیں کہ اسپیکر اسمبلی سیشن طلب کریں۔ بنچ نے کہاکہ آخر اسمبلی کارروائی نہ ہو تو کیا ہوتا ہے۔ حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہو تو کیا کیا جاسکتا ہے۔ ایسے میں گورنر ہی اسمبلی سیشن طلب کرسکتے ہیں۔ سنگھوی نے کہاکہ گورنر اسپیکر کو ایسا نہیں کہہ سکتے کیوں کہ وہ ایسا کہنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ گورنر کی طرف سے اسپیکر کو یہ ہدایت نہیں دی جاسکتی کہ آپ یہ کریں آپ وہ نہ کریں۔ اس طرح کا حکم دینا گورنر کے اختیار میں نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے مزید کہاکہ گورنر کااختیار صرف اتنا ہے کہ وہ ایوان کا سیشن طلب کرسکتے ہیں لیکن وہ ایوان کی کارکردگی اور کارروائی کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ کمل ناتھ کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے اپنی بات شروع کی تھی کہ دوپہر کے کھانے کا وقفہ ہوا۔ اس پر مزید بحث بنچ کے دوسرے سیشن میں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ یہ بہتر ہے کہ کمل ناتھ حکومت کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لئے اسمبلی سیشن طلب کریں۔ اس سے پہلے کہ صورتحال مزید ابتر ہوجائے چیف منسٹر کمل ناتھ کو خط اعتماد حاصل کرنا چاہئے جس کی کانگریس نے شدید مخالفت کی۔ کانگریس نے مطالبہ کیاکہ باغی کانگریس ارکان کو سب سے پہلے اسپیکر کے سامنے پیش ہونا ہوگا تاکہ اسمبلی سے ان کے استعفیٰ کی جانچ کی جاسکے۔
