نئی دہلی15مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) مدھیہ پردیش میں گورنر لال جی ٹنڈن کی طرف سے کمل ناتھ حکومت کو پیر کے روز اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دیے جانے کے بعد یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈروں کی ایک اہم میٹنگ ہوئی ۔ مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی میٹنگ میں مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان، ریاست کے سابق وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اور حال ہی میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں آئے مسٹر جیوترادتیہ سندھیا شامل ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق اکثریت سے پہلے مسٹر سندھیا سمیت یہ تمام لیڈر اتوار کی شب یا پیر کی صبح بھوپال پہنچ جائیں گے ۔ایسے امکانات ہیں کہ ان کے بھوپال پہنچنے کے بعد ہی بنگلورو سے سندھیا حامی اراکین اسمبلی بھوپال لائے جائیں گے جو گورنر کے خطاب کے درمیان اسمبلی میں پہنچیں گے ۔ گورنر مسٹر ٹنڈن نے ہفتہ کو دیر رات وزیر اعلی کمل ناتھ کو خط لکھ کر پیر کے روز شروع ہو رہے اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں گورنر کے خطاب کے فورا بعد ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ گورنر نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ کارروائی ہر حال میں 16 مارچ کو شروع ہو گی اور ملتوی، تاخیر یا معطل نہیں کی جائے گی ۔ اعتماد کا ووٹ بٹن دبا کر ہی ہوگا اور دیگر کسی طریقے سے نہیں کیا جائے گا ۔ اعتماد کے ووٹ کے عمل کی ویڈیوگرافی اسمبلی کی طرف سے آزاد افراد سے کرائی جائے گی ۔ گورنر کی ہدایت کے بعد مدھیہ پردیش اسمبلی میں بی جے پی کے چیف وہپ نروتم مشرا نے وہپ جاری کر دیا جس میں پارٹی اراکین اسمبلی کو ہدایت کی گئی ہے کہ پیر سے شروع ہو رہے اسمبلی کے سیشن میں ایوان کی کارروائی کے دوران وہ موجود رہیں اور فلور ٹیسٹ کے دوران بی جے پی پارٹی کے حق میں ووٹنگ کریں ۔ ادھر بنگلور و میں مسٹر سندھیا کے حامی 20 اراکین اسمبلی کو ان کے ریزورٹ سے دوسرے ریزورٹ میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ کانگریس کے حکومت حامی اراکین اسمبلی کو جے پور سے آج بھوپال لایا ہے ۔ بھوپال میں بھی وزیر اعلی کی رہائش گاہ پر کانگریس کے لیڈروں کی میٹنگ ہوئی جس میں اکثریت ثابت کرنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
