مدھیہ پردیش میں کانگریس کو بڑا جھٹکا۔ جیوتر آدتیہ سندھیا و 22 ارکان اسمبلی مستعفی

,

   

Ferty9 Clinic

اب آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے : سندھیا کا مکتوب استعفی ۔ امیت شاہ اور مودی سے ملاقات ۔ کمل ناتھ حکومت کو سنگین بحران کا سامنا

نئی دہلی / بھوپال 10 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کو ایک بڑا جھٹکا دیتے ہوئے اس کے ایک معروف نوجوان لیڈر جیوتر آدتیہ سندھیا نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے پارٹی کے 22 ارکان اسمبلی کی بغاوت کو بھی یقینی بنایا ہے ۔ ان ارکان اسمبلی نے بھی مدھیہ پردیش میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفی پیش کردیا ہے اس طرح ریاست میں 15 ماہ پرانی کمل ناتھ حکومت زوال کے قریب پہونچ گئی ہے ۔ 56 سالہ جیوتر آدتیہ سندھیا ایسا لگتا ہے کہ جلد ہی بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے ۔ آج انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ہمراہ وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی ۔ بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ چار مرتبہ رکن پارلیمنٹ رہے جیوتر آدتیہ سندھیا کو ایک یا دو دن میں پارٹی میں شامل کرلیا جائیگا ۔ یہ کام 13 مارچ کو پارلیمنٹ اجلاس کے اختتام سے قبل کرلیا جائیگا کیونکہ اسی دن راجیہ سبھا کیلئے پرچہ جات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ ہے اور یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیںکہ جیوتر آدتیہ سندھیا کو بی جے پی راجیہ سبھا کیلئے نامزد کریگی اور مرکزی کابینہ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے ۔ صدمہ اور حیرت کا شکار کانگریس پارٹی نے سندھیا کو ان کے استعفی کے بعد پارٹی سے خارج کردیا ہے ۔ ان پر مخالف پارٹی سرگرمیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ آج صبح جیوتر آدتیہ سندھیا نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی جو انہیں لے کر وزیر اعظم کی قیامگاہ گئے ۔ وہاں تفصیلی بات چیت ہوئی ۔ بی جے پی ذرائع نے کہاکہ تفصیلی بات چیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی وقت راہول گاندھی کے قریبی رفیق سمجھے جانے والے جیوتر آدتیہ سندھیا کو یہ دونوں قائدین کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ حالانکہ اس ملاقات کے بارے میں بی جے پی یا کانگریس کی جانب سے کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے ۔ سندھیا نے اس ملاقات کے بعد کانگریس صدر سونیا گاندھی کو 9 مارچ کی تاریخ والا مکتوب استعفی روانہ کردیا ہے ۔ اس میں انہوں نے کہا کہ اب ان کے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ وہ کانگریس میں رہتے ہوئے ملک کے عوام کی خدمت کرنے کے موقف میں نہیں ہیں ۔ کانگریس نے بتایا کہ اسے مکتوب استعفی منگل کو دن میں 12.20 بجے موصول ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ آج ہی کا دن جیوتر آدتیہ سندھیا کے والد آنجہانی کانگریس لیڈر مادھو راو سندھیا کا 75 واں یوم پیدائش ہے ۔ سندھیا کے استعفی کے ساتھ ہی ان کے وفادار 22 ارکان اسمبلی نے بھی استعفی پیش کردیا ہے اور اب ان استعفوں کے بعد کمل ناتھ کی حکومت زوال کے قریب پہونچ گئی ہے کیونکہ اگر ان 22 ارکان اسمبلی کے استعفے اسپیکر این پی پرجاپتی قبول کرلیتے ہیں تو حکومت اقلیت میں آ جائیگی ۔ اگر یہ استعفے قبول ہوجاتے ہیں تو ایوان کی عددی طاقت گھٹ کر 206 ہوجائے گی اور کانگریس کے ارکان کی تعداد 92 ہوجائے گی جبکہ بی جے پی کے پاس 107 ارکان اسمبلی ہیں۔ ایوان میںاکثریت ثابت کرنے کیلئے 104ارکان کی ضرورت ہوگی ۔ اس سارے ڈرامہ سے قبل ایوان کی عددی طاقت 228 تھی اور کانگریس کے ارکان کی تعداد 114 تھی جبکہ اسے آزاد اور بی ایس پی و ایس پی ارکان کی تائید حاصل تھی ۔ اس دوران بھوپال میں بی جے پی قائدین کے ایک وفد نے اسپیکر سے ملاقات کرتے ہوئے 19 کانگریس ارکان اسمبلی کے استعفی انہیں پیش کئے ۔ یہ ارکان اسمبلی بی جے پی اقتدار والی ریاست کرناٹک کے ایک ریسارٹ میں رکھے گئے ہیں۔ سینئر بی جے پی لیڈر بھوپیندر سنگھ آج دو پہر بھوپال ایک خصوصی طیارہ سے پہونچے تھے اور ان کے ساتھ ان ارکان اسمبلی کے استعفے تھے ۔ تین مزید ارکان اسمبلی جو بھوپال میں تھے انہوں نے بھی اپنے استعفے پیش کردئے ہیں۔ مستعفی ارکان میں چھ وزراء بھی شامل ہیں جن کے استعفوں کے بعد کمل ناتھ نے گورنر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے انہیں فوری وزارت سے ہٹانے کی خواہش کی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی نے یہ استعفے اپنے ہاتھ سے تحریر کئے ہیں۔ اسپیکر نے میڈیا سے کہا کہ انہیں ارکان کے استعفے موصول ہوگئے ہیں اور وہ قوانین کے مطابق جلد ہی کارروائی کرینگے ۔ ریاستی گورنر لال جی ٹنڈن ہولی کے سلسلہ میں یو پی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریاست کے سیاسی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کی بھوپال واپسی کے بعد ہی اس تعلق سے وہ کوئی فیصلہ کرینگے ۔

سینئر لیڈر کی بی جے پی میں شمولیت کا امکان ۔ کمل ناتھ حکومت کو خطرہ لاحق
بھوپال ؍ نئی دہلی 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش کانگریس میں بڑے پیمانے پر بغاوت ہوگئی جہاں 20 ارکان اسمبلی نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایم ایل ایز کانگریس قائد جیوتر آدتیہ سندھیا کے وفادار ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ارکان اسمبلی نے ای ۔ میل کے ذریعہ اپنا استعفیٰ راج بھون کو بھیج دیا ہے۔ راج بھون عہدیداروں نے ارکان اسمبلی کے استعفیٰ وصول ہونے کی توثیق بھی کردی ہے۔ دہلی سے موصولہ اطلاع کے مطابق کانگریس کے سرکردہ نوجوان لیڈر جیوتر آدتیہ سندھیا نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا۔ اس طرح مدھیہ پردیش کی کمل ناتھ حکومت شدید بحران کا شکار ہوگئی۔ سندھیا نے صدر کانگریس سونیا گاندھی کو اپنا مکتوب استعفیٰ بھیج دیا ہے۔ ادھر کانگریس کا کہنا ہے کہ پارٹی جنرل سکریٹری سندھیا کو مخالف پارٹی سرگرمیوں پر پارٹی سے برطرف کردیا گیا ہے۔ اس دوران جیوتر آدتیہ سندھیا نے آج صبح مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی اور ان کے ہمراہ وزیراعظم نریندر مودی سے ان کی قیامگاہ 7 لوک کلیان مارگ میں بات چیت کی ہے۔

سندھیا نے نظریہ پر خودغرضی کو ترجیح دی :کانگریس
بی جے پی میں شمولیت ابتر سیاسی و فرقہ وارانہ ماحول میں سینئر لیڈر کا بدترین اقدام

نئی دہلی ۔10مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) کئی کانگریس قائدین نے آج جوتیر آدتیہ سندھیا کو پارٹی چھوڑنے پر شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہونچائی اور نظریہ پر خودغرضی کو ترجیح دی ہے ۔ کانگریس قائدین نے اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف 1857 ء کی بغاوت سے تعبیر کیا اور وہ رول بھی یاد کیا جو سندھیا خاندان کی شخصیتوں نے اُس وقت ادا کیا تھا ۔ وجئے راجے سندھیا 1967 ء میں کانگریس سے منحرف ہوکر جن سنگھ میں شامل ہوئیں تھیں۔ کانگریس کے نمایاں یوتھ لیڈر آدتیہ سندھیا نے آج پارٹی چھوڑ دی اور اُن کی بی جے پی میں شمولیت لگ بھگ طئے ہے ۔ اُن کے ساتھ تقریباً دو درجن ایم ایل ایز مستعفی ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں 15 ماہ پرانی کمل ناتھ حکومت بکھراؤ کے دھانے پر پہونچ گئی ہے ۔ حیرانی میں مبتلا کانگریس نے سندھیا کے خلاف کارروائی کرنے میں دیر نہیں کی۔ آج کی تبدیلیوں پر چیف منسٹر راجستھان اشوک گہلوٹ نے سندھیا پر عوام اور آئیڈیالوجی کے بھروسے کو دغا دینے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ اُن جیسے لیڈر اقتدار کے بغیر زیادہ عرصہ نہیں رہے سکتے اور اس طرح کا اقدام جلد یا بدیر ہوکر رہتا ہے ۔ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہاکہ سندھیا کیلئے آئیڈیالوجی کی اہمیت نہ رہی ، یہ بہت تعجب کی بات ہے۔ کانگریس نے اُنھیں سنوارا اور اُنھو ں نے پارٹی کو یہ صلہ دیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر راجستھان سچن پائلیٹ نے سندھیا کو بی جے پی کی طرف انحراف سے روکنے کی آج بھرپور کوشش کی ۔ اُنھوں نے آخرکاراُمید ہاردی اور کہاکہ سندھیا کو بہت جلد پچھتاوا ہوگا ۔

یشودھرا راجے کو بھتیجے سندھیا کے اقدام پر خوشی
بھوپال ۔10مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) جوتیر آدتیہ سندھیا کی پھوپھو اور مدھیہ پردیش کی بی جے پی رکن اسمبلی یشودھرا راجے سندھیا نے آج اپنے بھتیجے کے کانگریس سے مستعفی ہوجانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اُسے قوم کے مفاد میں اچھا قدم بتایا ۔ یشودھرا نے ٹوئٹ کیا کہ راج ماتا کے خون نے قومی مفاد میں فیصلہ کیا ہے اور اس سے نیا ملک تشکیل پائے گا ۔ اب ہر فاصلہ ختم ہوگیا ہے ۔ یشودھرا راجے جیوتر کے آنجہانی والد مادھو راؤ سندھیا کی چھوٹی بہن ہیں۔ وہ شیوراج سنگھ چوہان زیرقیادت گزشتہ بی جے پی حکومت میں اسپورٹس کا قلمدان سنبھال چکی ہیں۔ جیوتر کی دادی اور یشودھرا کی ماں وجئے راجے سندھیا کو عام طورپر ’’راج ماتا ‘‘ پکارا جاتا تھا اور وہ بی جے پی کی طاقتور لیڈر رہیں۔