بیتول، 9 نومبر (یو این آئی) مدھیہ پردیش کے ضلع بیتول میں قابلیت اور رجسٹریشن کے بغیر علاج کا کاروبار چلانے والوں کے خلاف محکمۂ صحت نے ہفتہ کو بڑی کارروائی کی ہے ۔ چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ افسر (سی ایم ایچ او) ڈاکٹر منوج ہرمڑے نے بتایا کہ گھوڑا ڈونگری اور آملہ تحصیل میں دو جعلی ڈاکٹروں کے کلینکوں پر چھاپہ مار کر انہیں سیل کر دیا گیا ہے ۔ اس کارروائی میں بڑی مقدار میں ایلوپیتھک ادویات، انجیکشن اور میڈیکل آلات ضبط کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق، کھیڑی ساولی گڑھ، بھیم پور، چیچولی سمیت ضلع کے دیہی علاقوں میں سیکڑوں جعلی ڈاکٹر سرگرم ہیں، جہاں اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ ہفتہ کو آملہ تحصیل کے گاؤں جمباڑا میں جعلی ڈاکٹر دھنراج چنڈیل کے کلینک پر محکمۂ صحت کی ٹیم نے چھاپہ مارا۔ ٹیم میں ڈی ایچ او ڈاکٹر راجیش پریہار، بی ایم او ڈاکٹر اشوک نروڑے اور ڈی سی ایم کملیش مسیح شامل تھے ۔تحقیقات میں پایا گیا کہ ملزم بغیر کسی میڈیکل ڈگری کے غیر قانونی طور پر کلینک چلا رہا تھا۔ ٹیم نے ادویات ضبط کر کے کلینک کو سیل کر دیا۔ یہ کارروائی بغیر قانونی اجازت کے علاج کے کاموں کی شکایات کی بنیاد پر کی گئی۔اسی طرح سی ایم ایچ او ڈاکٹر ہرمڑے کی ہدایت پر تشکیل دی گئی دوسری ٹیم نے گھوڑا ڈونگری تحصیل کے گاؤں چکھل پٹی میں چھاپہ مارا۔ وہاں رگھوناتھ فوجداری اپنے گھر سے ایلوپیتھک کلینک چلا رہے تھے ۔
معائنہ کے دوران ایلوپیتھک ادویات، کھلے انجیکشن، شربت، گولیاں، اسٹیتھواسکوپ، بی پی مشین اور نیبولائزر جیسے آلات برآمد ہوئے ۔قابلیت سے متعلق دستاویزات پیش نہ کرنے پر ٹیم نے پنچنامہ تیار کر کے دوائیں اور بایومیڈیکل ویسٹ ضبط کر کے کلینک کو سیل کر دیا۔اس کارروائی میں اربن نوڈل افسر ڈاکٹر رتنیش کھاڑے ، سی بی ایم او شاہ پور، ڈرگ انسپکٹر سنجیو جادون اور اے پی ایم پرکاش ماکوڑے شامل تھے ۔
