منی پور ، گوا ، اروناچل پردیش کے بعد مدھیہ پردیش میں نقب لگانے کی کوشش : غلام نبی آزاد
نئی دہلی۔5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی کمل ناتھ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور اس کو گرانے کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازش ناکام ہو گئی ہے ۔راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد، لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری، پارٹی کے ترجمان وویک تنکھا اور رندیپ سنگھ سرجے والا نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے کیمپس میں صحافیوں سے کہا کہ گزشتہ پانچ چھ سال سے جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں ہے اس کے بعد سے ریاستوں میں جمہوریت ختم کیا جا رہا ہے ۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے اروناچل پردیش میں منتخب حکومت گرائی گئی، اس کے بعد منی پور میں کانگریس کی اکثریت والی حکومت گرائی گئی، گوا میں کانگریس کی اکثریت کو نظر انداز کیا گیا اور اسے حکومت بنانے نہیں دیا گیا۔ اسی طرح کرناٹک میں گورنر نے کانگریس کی اکثریت کو نظر انداز کرکے بی جے پی کو حلف دلایا۔اب بی جے پی نے مدھیہ پردیش میں نقب لگانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام ہو گئی ہے ۔کانگریس لیڈروں نے صحافیوں سے خطاب کرنے کے بعد ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ‘‘مدھیہ پردیش میں کانگریس کے 114 ممبران اسمبلی ہیں، اور ایک آزاد امیدوار پردیپ جیسوال وزیر ہیں۔
یعنی 115 اکثریت کا عدد ہے ، جو کانگریس کے پاس ہے ۔ دو بہوجن سماج پارٹی کے ممبر اسمبلی، رامابائی پریہار اور سنجیو کشواہا نے آج بھی کانگریس کی حمایت کی اپنی بات دہرائی ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے رادھے شکلا نے بھی اپنی حمایت حکومت کو دینے کو کہا ہے ۔ کیدار ڈاور اور وکرم سنگھ رانا آزاد ممبر اسمبلی بھی کانگریس کے ساتھ ہیں’’۔ آزاد نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں حکومت گرانے کی یہ چوتھی کوشش ہے ۔ کانگریس اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں بھی اٹھائے گی۔ انہوں نے دعوی کیا کانگریس نے کبھی اس طرح کی سیاست نہیں کی جبکہ بی جے پی ممبران اسمبلی کی خرید فروخت کرکے کانگریس حکومت کو گرانے کا کوشش کر رہی ہے جو جمہوریت مخالف قدم ہے اور کانگریس اس طرح کے اقدامات کی سخت مذمت کرتی ہے ۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ کمل ناتھ حکومت کی طرف سے پہلے مرحلہ میں اب تک 20 لاکھ کسانوں کو تقریبا 9 لاکھ کروڑ روپے کا قرض معاف کیا گیا ہے ۔ دوسرے مرحلہ میں 11 لاکھ کسانوں کو نشانزد کیا گیا ہے اور ان کی قرض معافی کی جانی ہے ۔ ریاست میں 87 فیصد لوگوں کو ‘اندرا گرہ جیوتی یوجنا’ کے تحت ایک روپے یونٹ کی شرح سے سو یونٹ تک بجلی دی جا رہی ہے ، جس سے ریاست کے شہریوں کا بجلی کا بل 70 فیصد کم ہو گیا ہے ۔ بی جے پی کے لوگوں کو کسانوں کا قرض معاف کرنا ہضم نہیں ہو رہا ہے اس لئے وہ اس طرح کی سازش کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو احساس ہو گیا ہے کہ مدھیہ پردیش میں اس کا مینڈیٹ ختم ہو گیا ہے ۔ اس کا براہ راست ثبوت حالیہ جھابوا اسمبلی کے ضمنی انتخابات ہیں جہاں بی جے پی امیدوارکو 27 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست ہوئی ہے ۔مایوسی میں ڈوبی بی جے پی کو یہ بھی واضح دکھائی دے رہا ہے کہ ریاست میں اسمبلی کی دو نشستوں کے لئے ضمنی انتخابات ہونے ہیں اور ان سیٹوں پر اس کی ہار طے ہے تو وہ زیادہ بوکھلا گئی ہے۔