بھوپال ۔6؍ستمبر ( ایجنسیز )مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع میں زہریلی شراب پینے سے 12 افراد کی موت ہو گئی جبکہ 35 دیگر افراد کو ہاسپٹلس میں داخل کرایا گیا ہے جن میں کچھ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ضلعی کلکٹر پرتیبھا پال نے کہا کہ اتوار کی صبح سے ہی غیر قانونی شراب کے استعمال سے مبینہ طور پر بیماریوں اور اموات کی خبریں ملی ہیں اور سیول ہاسپٹل میں جانچ جاری ہے۔ ڈاکٹروں نے سائنوسس یعنی جسم کا نیلا پڑ جانا اور پٹھوں میں اکڑن جیسی علامات کی اطلاع دی ہے۔ ضلعی کلکٹر پرتیبھا پال نے ان تمام لوگوں سے اپیل کی ہے جنہوں نے گزشتہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران کسی بھی قسم کی شراب پی ہو یا جن میں علامات ظاہر ہو رہی ہوں، وہ فوری طور پر طبی جانچ کرائیں۔میڈیاکے مطابق ساگر کے کمشنر، انسپکٹر جنرل، کلکٹر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت سینئر افسران نے نورا اور گھوگرو خورد گاؤں کا دورہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور زیر علاج افراد کیلئے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔ پولیس نے مشتبہ زہریلی شراب کے ماخذ کا پتہ لگانے اور اس کی سپلائی میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس افسر نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی اموات کی صحیح وجہ کا پتہ چل سکے گا۔