مدھیہ پردیش پولیس مسلمانوں اور سکھوں کو دہشت گرد سمجھتی ہے !

   

کٹنی پولیس سپرنٹنڈنٹ کے خط سے ہنگامہ‘کاروائی کرنے کا نگریس کا مطالبہ

بھوپال:مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی پٹیل کی کٹنی آمد کے دوران سیکورٹی انتظامات کو لے کر پولیس سپرنٹنڈنٹ سنیل جین کی طرف سے جاری خط میں مسلمانوں اور سکھوں کو دہشت گردوں کے ساتھ جوڑنے پر ہنگامہ برپا ہے۔ حالانکہ معاملے کے طول پکڑنے پر ضلع پولیس نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ لیکن کانگریس نے شیوراج حکومت سے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔دراصل کٹنی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سنیل جین نے گورنر کی رہائش کے دوران اس خط کے ذریعہ سیکورٹی
کے لیے ہدایات جاری کی تھیں۔ خط میں جاری ہدایات کے درمیان کالم نمبر 6 میں لکھا گیا ہے کہ ’’سکھ، مسلمان، جے کے ایل ایف، اْلفا، سیمی، ایل ٹی ٹی ای دہشت گردوں پر سخت نظر رکھی جائے۔‘‘ خط میں لکھی عبارت سکھ اور مسلمان کو دہشت گردوں کے درجہ میں رکھنے والی ظاہر ہو رہی ہے، اسی پر ہنگامہ برپا ہے۔گورنر منگو بھائی پٹیل کو منگل کو قلیل مدتی رہائش پر کٹنی آنا تھا۔ گورنر کی آمد پر سیکورٹی کے لیے پولیس محکمہ کو کٹنی ایس پی سنیل جین کے ذریعہ پیر کے روز خط جاری کیا گیا تھا۔پولیس سپرنٹنڈنٹ کے اس خط کو لے کر کانگریس کے ریاستی صدر کمل ناتھ کے میڈیا کوآرڈنیٹر نریندر سلوجا نے ریاستی حکومت پر طنز کسا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ شیوراج حکومت میں کیا سکھوں کو دہشت گردوں کے درجہ میں رکھا گیا ہے، ایک حب الوطن قوم کے تئیں ریاست کی پولیس کا یہ رویہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ حکومت کٹنی ایس پی پر اس معاملے میں کارروائی کرے، ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ یہی بی جے پی حکومت کی بھی سوچ ہے۔