جبل پور: 8 اکٹوبر (ایجنسیز) مدھیہ پردیش میں کف سیرپ کے استعمال سے بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین اور معصوم بچوں نے دم توڑ دیا جس کے بعد مرنے والے بچوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے۔ چھندواڑا میں 17، پانڈھرنا میں ایک اور بیتول میں دو بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس وقت بھی پانچ بچے ناگپور کے اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش لڑ رہے ہیں۔ مرنے والے بچوں میں تامیا کے دھانی دہریا (1.5 سال)، جناردیو کے جیانشو یادو وشی (2 سال)، اور ریڈھورا کے ویدانش پاور (2.5 سال) شامل ہیں۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ نجی ڈاکٹروں، جن میں ڈاکٹر پروین سونی کا نام شامل ہے، نے بچوں کو ’’کوڈریف سیرپ‘‘ دی تھی۔ چند گھنٹوں کے اندر بچوں کے گردے متاثر ہونا شروع ہوئے اور میڈیکل رپورٹ میں تصدیق ہوئی کہ سیرپ میں زہریلے کیمیائی عناصر موجود تھے، جو گردوں کو نقصان پہنچا رہے تھے۔