مذہبی منافرت پھیلانے پر محمد علی شبیر کی مرکزی وزیر جی کشن ریڈی پر برہمی

   


4 فیصد مسلم تحفظات منسوخ کرنے کا رائے دہندوں سے وعدہ کرنے پر الیکشن کمیشن کو مکتوب کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے سینئیر قائد سابق وزیر محمد علی شبیر نے اسمبلی حلقہ منوگوڑ میں اشتعال انگیز انتخابی مہم چلانے اور 4 فیصد مسلم تحفظات منسوخ کردینے کا وعدہ کرنے والے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کے خلاف کارروائی کرنے کا الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کیا ۔ آج شام گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ بی جے پی مذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہوئے ضمنی انتخاب میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ الیکشن کمیشن اس کا سخت نوٹ لیں ۔ مرکزی وزارت پر قائم رہنے والے جی کشن ریڈی غیر ذمہ دارانہ کام کررہے ہیں ۔ ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی 4 فیصد مسلم تحفظات کو منسوخ کرنے کا عوام سے وعدہ کیا جارہا ہے ۔ تحفظات کو منسوخ کرنے کا بی جے پی کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔ مسلم تحفظات کو منسوخ کرنے کے لیے چیف جسٹس کے علاوہ 5 ججس پر مشتمل دستوری بنچ کی ضرورت ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے جی کشن ریڈی سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے رول ادا کررہے ہیں ۔ کشن ریڈی کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کیا ۔ سال 2013 میں اس وقت کے اٹارنی جنرل نے مرکزی حکومت 4 فیصد مسلم تحفظات کے حق میں ہونے کا دعویٰ پیش کیا تھا ۔ 16 سال سے 4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری ہورہی ہے ۔ مسلم تحفظات تمام مسلمانوں کو نہیں دیا جارہا ہے ۔ صرف 14 کمیونٹیز کو تعلیم اور روزگار میں فراہم کیا جارہا ہے ۔ یہ مذہبی تحفظات نہیں ہے پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات دیا جارہا ہے ۔ جس کی مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کو معلومات ہونی چاہئے ۔ مرکزی وزیر کے خلاف وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی شکایت کریں گے ۔۔ ن