اترپردیش میں مذہبی تبدیلی کے معاملے نے اب سیاسی شکل اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سشیل گپتا امانت اللہ خان کے دفاع میں سامنے آئے ہیں انہوں نے کہا ، ‘بی جے پی انتخابات کے وقت ہندو مسلم اور ہندوستان پاکستان کرتی ہے۔ جب بھی انتخابات آتے ہیں ، بی جے پی ہمیشہ مذہب اور ذات کے نام پر تقسیم کرنے کا کام کرتی ہے۔ آج ہم تعلیم ،صحت ، بے روزگاری کی بات نہیں کررہے ہیں۔عآپ کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے مذہب تبدیل کرنے کے الزام میں یوپی اے ٹی ایس کے ذریعہ گرفتار ملزم کا ساتھ لیا۔انہوں نے ٹویٹ کیا اور لکھا ، ‘بی جے پی ملک کے اقلیتوں اور دلتوں پر مظالم کرنے سے چوک نہیں رہی ہے۔ یوپی اے ٹی ایس کے ذریعہ عمر گوتم اور مفتی جہانگیر کو گرفتار کرکے بی جے پی حکومت نے ہمارے آئینی حقوق پر حملہ کیا ہے۔ آرٹیکل 25 اور 21 ، ہمیں اپنے مذہب کے فروغ کے ساتھ کسی بھی مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔ اترپردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی غیر آئینی انداز میں مساوات ، سزا اور امتیازی سلوک کی پالیسی اپناتے ہوئے اپنی ڈوبتی کشتی کو پار کرنا چاہتی ہے۔بی جے پی حکومت قانون اور آئین کا غلط استعمال کرنا بند کرے اور غیر آئینی طور سے گرفتار افراد کو جلد رہا کرے۔