مراٹھوں کو تحفظات پر سپریم کورٹ کا حکم التواء

   

تحفظات سے مستفید ہونے والوں پر اس فیصلہ کا کوئی اثر نہیں ہوگا

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے مہاراشٹرا کے 2018ء کے قانون کے تحت تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں مراٹھوں کو تحفظات دینے کے عمل پر حکم التواء دیا ہے البتہ عدالت نے یہ واضح کردیا کہ پہلے سے ہی ان تحفظات سے استفادہ کرنے والوں پر اس حکم کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ انہیں ملنے والے ثمرات حاصل ہوتے ہیں گے۔ جسٹس ایل این راؤ پر مشتمل تین رکنی ججس کی بنچ نے اس معاملہ کو بڑی دستوری بنچ سے رجوع کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے نے بنچ تشکیل دی ہے۔ تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں مرہٹوں کو تحفظات دینے کے قانون کی افادیت کوچیلنج کرتے ہوئے کئی درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ 2018ء کے قانون سے پہلے سے استفادہ کرنے والے افراد اس فیصلہ سے متاثر نہیں ہوں گے۔ سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات قانون 2018ء کو روبہ عمل لاتے ہوئے مہاراشٹرا میں ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں داخلہ کیلئے مراٹھا طبقہ کے عوام کے حق میں تحفظات دیئے گئے تھے۔ ممبئی ہائیکورٹ نے گذشتہ سال جون میں اس قانون کو برقرار رکھا تھا اور کہا تھا کہ 16 فیصد تحفظات منصفانہ نہیں ہیں۔ کوٹہ کی حد کو 12 فیصد سے تجاوز نہیں کیا جانا چاہئے۔ روزگار میں 12 فیصد اور داخلوں میں 13 فیصد کوٹہ ہونا چاہئے۔ 27 جولائی کو مہاراشٹرا حکومت نے سپریم کورٹ کو تیقن دیا تھا کہ وہ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کیلئے بھرتیوں کا عمل شروع نہیں کرے گی۔ 15 ستمبر تک 12 فیصد مراٹھا تحفظات کی بنیاد پر کوئی تقرر عمل میں نہیں آئے گا۔ ایڈوکیٹس امیت آنند تیواری اور ویویک سنگھ نے درخواست گذاروں کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے کہا کہ پی جی میڈیکل کورسیس میں داخلوں کیلئے آخری تاریخ کو بھی موخر کیا جانا چاہئے۔ عدالت نے مہاراشٹرا حکومت کی یہ بحث بھی قبول کی کہ مراٹھا طبقہ معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ہے۔ حکومتکا فرض ہیکہ وہ اس طبقہ کی ترقی کیلئے اقدامات کرے۔